سٹی42: خود ترسی کے مریض پاکستان کو اب تک مقروض اور معاشی دیوالیہ کے دہانے پر پہنچی ہوئی رہاست سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پانچ ملک پاکستان کے نادہندہ ہیں جن سے قرض کی واپسی کی کئی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔پاکستان کے نادہدہ ممالک میں سے کم از کم ایک ایسا ہے جس کا نام خود ترسی کے مریض پاکستان سے بہتر معیشت کے حوالے سے لیتے ہیں۔
اسلام آباد مین ایک سرکاری آڈٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا قرض واپس کرنے میں مسلسل ناکام ممالک کی فہرست میں سری لنکا، بنگلہ دیش، عراق، سوڈان اور گنی بساو شامل ہیں۔ ان ممالک سے پاکستان کی ریاست کو 30 کروڑ 45 لاکھ ڈالر واپس لینا ہیں لیکن پاکستان اب تک قرضوں کی رقوم ریکور کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں ان ملکوں کو ایکسپورٹ کریڈٹ دیا تھا، پاکستانی کرنسی میں قرض کی یہ رقم 86 ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق عراق کے ذمے سب سے زیادہ 23 کروڑ 13 لاکھ ڈالر واجب الادا ہیں جبکہ پاکستان نے سوڈان سے 4 کروڑ 66 لاکھ ڈالر وصول کرنے ہیں۔
بنگلہ دیش کے ذمےشوگر پلانٹ اور سیمنٹ کی مد میں 2 کروڑ 14 لاکھ ڈالر ہیں جبکہ پاکستان نے گنی بساو سے 36 لاکھ 53 لاکھ ڈالر وصول کرنے ہیں۔
حالیہ آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 07-2006 میں بھی آڈیٹر جنرل نے ریکوری کی نشاندہی کی تھی، ان 5 ملکوں کو یاددہانی کے خط اور ڈیمانڈ نوٹسز بھی بھجوائے گئے۔
اب ایک بار پھر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی طرف سےان پانچ دوست ممالک سے قرض کی رقوم ریکور کرنے کےلیے معاملہ مناسب سطح پر اٹھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کا قرض واپس نہ کرنے والے ملکوں میں سے بنگلہ دیش کی معیشت نے حالیہ کچھ سالوں کے دوران غیر معمولی ترقی کی ہے اور بنگلہ دیش کی معیشت کے کئی انڈیکیٹر بہت شاندار ترقی کی گواہی دیتے ہین۔ پاکستان کو مسائل کا شکار ریاست سمجھنے کے عادی بہت سے خود ترسی کے مریض سوشل پلیٹ فارمز پر پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تقابل کر کے پاکستان کی ریاست اور حکومتوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں،آڈیٹر جنرل کی رپورٹ سے ان ناقدوں کی تنقید کے برعکس تصویر سامنے آئی ہے۔