ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے من پسند بیوروکریٹس، وزراء اور دیگر بااثر شخصیات کو سول ایوارڈز دینے کے خلاف درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
جسٹس احمد ندیم ارشد نے خاتون اشبا کامران کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں صدرِ مملکت کے پرنسپل سیکرٹری اور سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سول ایوارڈز معاشرے کے لیے رضاکارانہ اور غیر معمولی خدمات انجام دینے والی شخصیات کو دیے جاتے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے من پسند افراد کو سول ایوارڈز سے نوازنے کے لیے آئین میں ترامیم کی گئی ہیں۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ حکومت نے سرکاری خزانے سے مراعات حاصل کرنے والے افراد کو بھی سول ایوارڈز کے لیے نامزد کیا، جبکہ بیوروکریٹس، وزراء، میڈیا مالکان اور مذہبی شخصیات کی ایوارڈز کے لیے نامزدگیاں بھی قانونی اور آئینی تقاضوں سے متصادم ہیں۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ سول ایوارڈز کے لیے شخصیات کی نامزدگی کا طریقہ کار اور متعلقہ ریکارڈ عدالت میں طلب کیا جائے۔درخواست میں مزید استدعا کی گئی کہ سرکاری مراعات حاصل کرنے والی شخصیات کی سول ایوارڈز کے لیے کی گئی نامزدگیاں کالعدم قرار دی جائیں اور من پسند شخصیات کو سول ایوارڈز دینے کے لیے آئین میں کی گئی ترامیم بھی کالعدم قرار دی جائیں۔