ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

شدید بارش کا ایک اور الرٹ جاری ہو گیا

Himachal Pardesh, Rain Alert, Monsoon forecast, IMD alert, City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: خوفناک بارشوں سے تباہ علاقے میں شدید بارش کا ایک اور الرٹ جاری ہو گیا۔ لوگوں میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیل گیا۔

ہماچل پردیش میں آج شب ایک بار  پھر الرٹ جاری ہوا ہے، بارش کے سبب پہلے ہی ہماچل میں 577 سڑکیں بند ہو چکی ہیں۔  380 اموات اور 4306 کروڑ کی مالیت کی املاک  تباہ ہو چکی ہیں۔

  ہماچل پردیش میں شدید بارش ہوتی ہے تو یہ پاکستان پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے کیونکہ پاکستان کے سندھ اور جہلم کے سوا تمام بڑے دریا ہماچل سے ہی نکل کر نیچے پاکستان پہنچتے ہیں۔
ریاست میں 20 جون کو مون سون کی شروعات ہوئی تھی.
 
ہماچل پردیش میں محکمہ موسمیات کی جانب سے اس ہفتہ کے اخیر میں ریاست کے مختلف حصوں میں شدید بارش کا الرٹ جاری کیا ہے۔ اس دوران لوگوں سے محتاط رہنے اور احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اس ہفتہ کے اخیر میں ریاست کے چمبا، کانگرا اور منڈی میں شدید سے شدید ترین بارش کے سبب مختلف علاقوں میں اورینج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی جمعہ سے اتوار تک کے لیے 4 سے 6 اضلاع کے مختلف علاقوں میں شدید بارش ہونے کا امکان ہے، اس کے علاوہ آئی ایم ڈی نے یلّو الرٹ بھی جاری کیا ہے۔

اسی درمیان ریاست میں کچھ جگہوں پر ہلکی سے درمیانی بارش ہوئی۔ بدھ (10 ستمبر) شام سے مراری دیوی میں 63 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔ جبکہ بھروری میں 62.8 ملی میٹر، سلیپر میں 54.4 ملی میٹر، بگی میں 36.5 ملی میٹر، کانگڑا میں 36 ملی میٹر، نینا دیوی میں 42.6 ملی میٹر، پالمپور میں 36 ملی میٹر، سندرنگر میں 33.9 ملی میٹر بارش ہوئی۔ ساتھ ہی منڈی میں 27 ملی میٹر اور گوہر میں 25 ملی میٹر بارش درج کی گئی ہے۔
 لینڈ سلائیڈنگ اور شدید بارش کے سبب بند قومی شاہراہوں میں اٹاری-لیہ روٹ (این ایچ 3)، اوٹ-سینج روٹ (این ایچ 305) اور امرتسر-بھوٹا روٹ (این ایچ 503اے) شامل ہیں۔ ریاست کے الگ الگ اضلاع میں 577 سڑکیں بند ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ 213 سڑکیں کُلو میں بند ہیں، جبکہ منڈی ضلع کی 154 سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت بند ہے۔ واضح ہو کہ ریاست میں 20 جون کو مون سون کی شروعات ہوئی تھی، اس کے بعد سے بارش سے متعلق حادثات اور سڑک حادثات میں کُل 380 لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ ریاست کو اب تک شدید بارش-سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے سبب 4306 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ریاست کے اب بھی 3 قومی شاہراہ بند ہیں۔

اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ایس ای او سی) کے مطابق، حال میں آئے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ریاست میں بجلی کے تقریباً 812 ٹرانسفارمر تباہ ہوئے ہیں۔ واٹر سپلائی کے 369 منصوبے بند ہوئے ہیں۔ بہت زیادہ لینڈ سلائیڈنگ اور لوگوں کی سیکورٹی کے پیش نظر سڑکوں پر آمد و رفت بند کر دی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے روٹ بند ہونے سے لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب کارپوریشن کو یومیہ لاکھوں روپیہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ شدید بارش کے سبب بند ہوئی سڑکوں کی بحالی کا کام جاری ہے، لیکن حالات اب بھی خراب ہیں۔
ایس ای او سی کے مطابق ریاست کے مختلف علاقوں میں 380 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ ان میں 48 لینڈ سلائیڈنگ، 17 بادل پھٹنے، 11 سیلاب کے باعث اور 165 افراد سڑک حادثات میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 40 لوگ اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔