ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

50 کلاؤڈ برسٹ، 95 سیلاب،360 اموات؛ ہماچل پردیش عملاًبرباد ہو گیا

Himachal Pardesh flooding, Monsoon 2025, Cloud burst events, cloud burst forecast, rain forecast, flood forecast

سٹی42:  ہماچل پردیش میں لینڈسلائیڈنگ اور شدید بارش کے سبب 1004 سڑکیں اور 1992 بجلی ٹرانسفارمر بند ہو گئے، 360 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
رواں مون سون سیزن میں 20 جون سے 5 ستمبر تک ہماچل پردیش میں 360 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، 426 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 47 افراد اب تک لاپتہ ہیں۔

ہماچل کی بارشیں اور پاکستان

ہماچل پردیش میں زیادہ بارش پاکستان کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ ہماچل سے تین دریا  ستلج، بیاس اور راوی پاکستان آتے ہیں۔ اس سال ہماچل پردیش میں ہونے والی تباہ کن بارشوں کے سبب پاکستان میں  راوی، بیاس اور ستلج میں بے تحاشا پانی آیا جس نے ان تینوں دریاؤں کے کناروں کے نزدیک اب تک تباہیاں مچا رکھی ہیں۔

ہماچل پردیش (بھارت) میں تشکیل پانے والے کئی دریا بالآخر پاکستان میں پہنچ جاتے ہیں، خاص طور پر دریائے سندھ کے معاون دریا ستلج، بیاس اور راوی ہماچل پردیش سے دریا پاکستان میں بہتے ہیں۔


1. دریائے ستلج

آغاز: ستلج کی تشکیل تبت میں جھیل رکشستال کے قریب ہوتی ہے، یہ مدی شپکی لا (ضلع کنور) کے راستے ہماچل میں داخل ہوتی ہے۔

بہاؤ: ستلج ہماچل (کنور، شملہ، بلاس پور، منڈی) سے گزرتا ہے، پھر پنجاب (ہندوستان) میں جاتا ہے، اور آخر میں چناب میں شامل ہو کر پاکستانی پنجاب میں جاتا ہے۔

حیثیت: سندھ آبی معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں میں سے ایک ہے۔ اس کا پانی بھارت کے لیے مختص ہے، اگرچہ زیادہ بہاؤ پاکستان کو جاتا ہے۔

2. دریائے بیاس

آغاز: روہتانگ پاس (ہماچل) کے قریب بیاس کنڈ سے اس ندی کا آغاز ہوتا ہے۔

بہاؤ: بیاس ندی کلو، منڈی، کانگڑا سے ہوتے ہوئے  پنجاب (ہندوستان) میں آنے تک بڑا دریا بن چکی ہوتی ہے۔ جہاں یہ دریا ستلج میں جا ملتا ہے۔

بالواسطہ رابطہ: ستلج کےپانی سے مل کر بیاس کا پانی بھی پاکستان تک پہنچتا ہے۔

حیثیت: ایک مشرقی دریا  یہ بھی ہے جو انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت ہندوستان کے استعمال میں ہے۔

3. دریائے راوی

ابتدا : چمبہ کے قریب (ہماچل پردیش)۔

بہاؤ: راوی ہماچل (چمبا)، پھر پنجاب (ہندوستان) سے گزرتا ہے، اور پاکستان کے  پنجاب میں جاتا ہے، آخر کار چناب میں شامل ہوتا ہے۔

حیثیت: سندھ طاس معاہدے کے تحت راوی ایک اور مشرقی دریا ہے جس کا پانی بھارت استعمال کرتا ہے۔

ہماچل میں اس برسات میں کیا ہوا

ہماچل پردیش میں اس سال برسات کے مہینوں میں مستقل شدید بارش نے تباہی کا عالم پیدا کر دیا ہے۔ جگہ جگہ لینڈسلائیڈ کے سبب لوگوں کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 دیہی علاقوں میں سینکڑوں سڑکیں بند ہونے اور بجلی و پانی کی فراہمی میں رکاوٹ ہونے سے لوگوں کی مشکلات میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔

ہماچل کی آج کی بارش

ہماچل میں ہفتہ (6 ستمبر) کی صبح 10:00 بجے تک 3 قومی شاہراہ سمیت 1004 سڑکیں بند رہیں۔ اس کے علاوہ 1992 بجلی ٹرانسفارمر اور 472 واٹر سپلائی منصوبے بھی متاثر رہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق  چمبا ضلع میں 166، کُلو میں 225، منڈی میں 205، شملہ میں 212 اور سرمور ضلع میں 48 سڑکیں بند ہیں۔ شملہ میں بھی ہلکی بارش جاری ہے، خراب موسم کی وجہ سے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو کا ہمیرپور کے آفت زدہ علاقوں کا دورہ منسوخ ہو گیا ہے۔
کلّو کے اندرونی اکھاڑہ بازار میں ملبہ میں دبے لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے چوتھے روز بھی ریسکیو آپریشن جاری رہا۔ یہاں 2 مختلف مقامات پر تلاشی مہم کے دوران ہفتہ کو مزید 3 لاشیں برآمد کی گئیں۔ دونوں مقامات پر ایک ایک شخص اب بھی لاپتہ ہے، جس کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

 اس سے قبل 3 لاشیں جمعہ کو برآمد کی گئی تھیں اور ایک قدرتی آفت کے دوران ہی مردہ پایا گیا تھا۔ مجموعی طور پر اب تک دونوں واقعات میں 7 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں اور 2 لوگ اب بھی ملبہ میں دبے ہیں، جن کی تلاش کا کام مسلسل جاری ہے۔

بھرمور میں پھنسے عقیدتمندوں کو ضلع ہیڈکوارٹر چمبا پہنچانے کے لیے ہفتہ کو بھی ایئر فورس کے ہیلی کاپٹروں نے اڑان بھری۔ واضح ہو کہ ہریانہ سمیت دیگر ریاستوں سے یاترا پر آئے عقیدتمند اور لنگر کمیٹی کے ارکان بھرمور میں پھنس گئے تھے۔ اسی طرح جمعہ کو بھی موسم صاف ہونے پر بذریعہ چنوک ہیلی کاپٹر عقیدتمندوں کو بھرمور سے چمبا ایئر لفٹ کیا گیا تھا۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ہفتہ کو بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے عقیدتمندوں کو نکالنے کا عمل جاری رہا۔
محکمہ موسمیات کے مرکز شملہ کے مطابق ریاست کے کئی حصوں میں 12 ستمبر تک بارش جاری رہے گی۔ کئی مقامات پر ہفتہ کو شدید بارش کا یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ گزشتہ رات نینا دیوی میں 136.8، برٹھیں میں 25.6، مالراوں میں 25.0، سرہان میں 20.0، دھولہ کنواں میں 18.5 اور روہڑو میں 10.0 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

مصنوعی جھیل کا خطرہ

 دوسری جانب کنور ضلع کے پوہ بلاک کے لیپا گاؤں کے متصل پِجر کھڈ میں جمعرات کی دوپہر 12 بجے کے قریب اچانک سیلاب آنے کی وجہ سے ایک مصنوعی جھیل بن گئی ہے، اس کی پانی کی سطح میں اضافے سے گاؤں کے لوگ خوف زدہ ہیں۔ سیلاب کے باعث کئی گھر زیر آب آگئے ہیں۔ لوگوں کے رہائشی مکانات، پینے کے پانی کے ذرائع، آبپاشی کی نہریں اور سیفٹی ٹینک سمیت باغبانوں کے ہزاروں سیب کے پودوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

50 کلاؤڈ برسٹ، 95 سیلاب

ہماچل کے  پہاڑی علاقوں میں گزشتہ 30 سالوں میں شدید بارشوں کے واقعات میں 200 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ریاست میں کلاؤڈ برسٹ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہر سال تباہی ہو رہی ہے۔ رواں مون سون سیزن میں اب تک 3979 کروڑ روپے کی جائیداد کو نقصان پہنچا ہے۔ رواں مون سون سیزن میں 20 جون سے 5 ستمبر تک 360 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، 426 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 47 افراد اب تک لاپتہ ہیں۔ اس دوران 163 افراد کی سڑک حادثات میں موت ہو چکی ہے۔

 اسی دوران ریاست میں کلاؤڈ برسٹ کے 50 واقعات، سیلاب کے 95  واقعات اور لینڈ سلائیڈنگ کے 133 واقعات پیش آئے ہیں۔ ان میں 1366 پختہ اور 3218 کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ 452 دکانوں اور 4816 گئوشالوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور 1967 پالتو جانور کی بھی موت ہوئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سولن ضلع میں گزشتہ کئی دنوں سے پینے کے پانی کی فراہمی میں رکاوٹیں آ رہی ہیں۔ بارش کے سبب محکمہ جل شکتی کی 453 مںصوبوں کو نقصان پہنچا ہے۔ محکمہ کے ملازمین مںصوبوں کو فعال بنانے میں لگے ہیں۔ مںصوبوں کے متاثر ہونے کی وجہ سے کارپوریشن کو پانی کی سپلائی میں کافی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے سولن میں پانی کا بحران برقرار ہے۔ اس بار سب سے زیادہ سولن میں لوگوں کو پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 سرکاری حکام نے بتایا کہ ’’سولن ضلع میں بارش کی وجہ سے 453 مںصوبوں کو 50 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’متاثرہ منصوبوں پر جنگی پیمانے پر کام جاری ہے اور زیادہ تر منصوبوں کو فعال کیا جا چکا ہے۔ ضلع میں 13 منصوبے فعال ہونے باقی ہیں، انہیں بھی جلد از جلد فعال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو راحت مل سکے۔‘‘