ملک اشرف : چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کا بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے مقدمات نمٹانے کی ٹائم لائنز مقرر کرنے کا انقلابی فیصلہ ، وکلاء اور سائلین نے چیف جسٹس کے اقدام کو تاریخی قرار دے دیا .
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے بروقت انصاف کی فراہمی کے حوالے سے ایک بڑا تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے مختلف نوعیت کے مقدمات کے فوری فیصلے کے لیے واضح ٹائم لائنز مقرر کر دی ہیں۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کا کہنا ہے کہ "بروقت انصاف ہی عوام کا بنیادی حق ہے، جس میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق نیشنل جوڈیشل پالیسی سازی کمیٹی (NJPMC) کی 54 ویں میٹنگ میں مختلف نوعیت کے مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کے لیے مدتوں کا تعین کیا گیا، جن پر عمل درآمد کے لیے صوبہ بھر کی عدالتوں اور ٹربیونلز کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔اہم ٹائم لائنز درج ذیل ہیں:زمین کے تنازعات کے اعلانیہ مقدمات 24 ماہ میں نمٹانے کا حکم دیا گیا ہے،وراثتی تنازعات کے مقدمات 12 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ،زمین کے تنازعات میں حکم امتناعی کیسز 6 ماہ میں ختم کرنے کا فیصلہ ہوگا ،ریکوری سوٹ اور منی میٹرز 12 ماہ میں نمٹانے کی ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے،معاہدوں کے نفاذ سے متعلق مقدمات 18 ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے،کرائے کے مقدمات 6 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے،فیملی سوٹ (تحلیل، مہر، دیکھ بھال، سرپرستی) 6 ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے ،جانشینی کے بلا مقابلہ مقدمات صرف 2 ماہ میں مکمل کرنے کی ٹائم لائن مقررکی گئی ،فیملی کورٹ کی ڈگری کے اجراء کی درخواستیں 6 ماہ میں نمٹانے کا فیصلہ ہوگا ،بینکنگ کورٹ کی ڈگری پر اجراء کی درخواستیں 12 ماہ میں نمٹانے جبکہ سول کورٹ کی ڈگری پر اجراء کی درخواستیں 12 ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے،کرائے کے معاملات میں اجراء کی پٹیشنز 3 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے،نوعمر مجرموں کے ٹرائل (جیونائل جسٹس ایکٹ 2018) 6 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،سات سال تک سزا کے مقدمات 12 ماہ میں نمٹانے کا فیصلہ ہوگا،سات سال سے زائد سزا کے مقدمات 18 ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے،قتل کے مقدمات 24 ماہ میں مکمل کرنے کی ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے،لیبر مقدمات 6 ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے، ذرائع کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے تمام ججز اور پریزائیڈنگ آفیسرز کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ یہ ٹائم لائنز ہر صورت فالو کی جائیں تاکہ عوام کو جلد انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں مقدمات کی طوالت نہ صرف عوام کو ذہنی و مالی اذیت دیتی ہے بلکہ عدلیہ کے نظام پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے بعد عدالتی نظام میں تیزی لانے اور مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے میں خاطر خواہ بہتری آنے کی توقع ہے۔