سعید احمد: سیلاب سے نئی فصل کی تباہی اور امریکا سمیت دیگر ممالک کی بڑھتی ڈیمانڈ کے باعث مقامی مارکیٹ میں چاول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔
ہول سیل ڈیلرز نے چاول کو ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
مارکیٹ ریٹ کے مطابق کائنات چاول 350 سے بڑھ کر 380 روپے فی کلو ہوگیا،سپر چاول 290 سے بڑھ کر 320 روپے فی کلو تک پہنچ گیا،باسمتی چاول 240 سے بڑھ کر 280 روپے فی کلو ہوگیا،سیلہ چاول درجہ اول 320 سے بڑھ کر 360 روپے فی کلو تک جا پہنچا،ٹوٹا (ادواڑ) چاول 200 سے بڑھ کر 250 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔
شہریوں نے شکوہ کیا ہے کہ پہلے چینی اور آٹا مہنگا ہوا اور اب چاول بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر جا رہا ہے۔
کریانہ مرچنٹس کا کہنا ہے کہ نئی فصل متاثر ہونے کے باعث پرانا چاول مافیا نے ذخیرہ کر لیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر چاول کی ایکسپورٹ پر نظر ثانی کرے تاکہ مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔