ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب میں سیلاب متاثرین کی کشتیاں الٹنے سے 3 بچے جاں بحق، 9 افراد لاپتہ

پنجاب میں سیلاب متاثرین کی کشتیاں الٹنے سے 3 بچے جاں بحق، 9 افراد لاپتہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:پنجاب میں حالیہ سیلابی صورتحال نے جہاں زرعی معیشت اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے، وہیں انسانی جانوں کا ضیاع بھی مسلسل جاری ہے۔ مختلف علاقوں میں سیلاب متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے والی کشتیاں اُلٹ گئی، جس کے نتیجے میں  کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 9 لاپتہ ہو گئے۔ 

ملتان کے علاقے جلالپور پیر والا میں خان بیلہ روڈ کے قریب ایک کشتی اس وقت الٹ گئی جب وہ سیلاب زدہ علاقے سے 25 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر رہی تھی۔ کشتی میں خواتین، بچے اور بزرگ سوار تھے۔ حادثے میں 20 دن کی ایک نومولود بچی جاں بحق ہو گئی جبکہ دیگر تمام افراد کو ریسکیو 1122 اور مقامی امدادی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچا لیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے، جس کی وجہ سے توازن بگڑنے کے باعث کشتی الٹی۔

ادھر موہانہ سندیلہ میں بھی ایک کشتی الٹ گئی، جس کے نتیجے میں چار سالہ بچہ جان کی بازی ہار گیا جبکہ 18 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔ تاہم 9 افراد تاحال لاپتہ ہیں اور ان کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔اسی طرح خان بیلہ میں سیلاب متاثرین کو لے جانے والی ایک اور کشتی الٹ گئی، جس میں 20 افراد سوار تھے۔ بدقسمتی سے 2 ماہ کا ایک شیر خوار بچہ اس حادثے میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔

مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے علاقے لتی ماڑی میں بھی ایک کشتی کے الٹنے کا واقعہ پیش آیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق، کشتی میں 10 سے زائد افراد سوار تھے۔ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب ایک شخص نے کشتی میں لٹکنے کی کوشش کی، جس کے باعث کشتی توازن کھو بیٹھی۔ خوش قسمتی سے تمام افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا۔

دوسری جانب بہاولنگر کے علاقے بستی کلر والی میں دریائے ستلج میں 12 سالہ بچہ ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔ تیز بہاؤ اور حفاظتی سہولیات کی کمی کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم کشتیوں، تربیت یافتہ عملے اور لائف جیکٹس کی کمی امدادی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے تمام واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور آئندہ ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے مزید سخت حفاظتی اقدامات کا عندیہ بھی دیا ہے۔