جعلی نکاح اور پھر حاملہ، گھریلو ملازمہ انصاف کیلئے در بدر

rape and Nikah with maid
Women Rape

شاہین عتیق:خواتین سے زیادتی اور قتل و غارت جیسے واقعات آئے روز بڑھ رہے ہیں۔ کہی لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر ان کی عزت پامال کی جاتی ہے تو کہیں گھریلو ملازمہ کی عزت غیر محفوظ ہے۔

غربت مٹانے کے لیے گھروں میں کام کرنے والی خاتون فرزانہ زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد انصاف کے لیے سیشن کورٹ پہنچ گئی۔ ایڈیشنل سیشن جج کاشف قیوم کی عدالت میں ڈیفنس کے شیخ سہیل اور فاروق کے خلاف اندراج مقدمے کی درخواست دی گئی ہے۔ درخواست محنت کش خاتون فرزانہ نے اپنے وکیل ملک غلام حسین کی وساطت سے دائر کی۔ خاتون وہاڑی کی رہنے والی ہے اور ڈیفنس میں شیخ سہیل اور فاروق کے گھر محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالتی تھی۔

خاتون کے مطابق ملزمان نے کام کے دوران اس کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، اس نے تھانے جانے کی کوشش کی تو پکڑے جانے کے ڈر سے انہوں نے اس کے ساتھ نکاح کر لیا بعد میں اس کو زیادتی کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ خاتون کے مطابق انہوں نے دیکھا کہ وہ حاملہ ہو گئی تو  اس کو گھر سے نکال دیا اور نکاح نامہ پھاڑ دیا۔

عدالت میں ملک غلام حسین نے موقف اختیار کیا ایس ایچ او ملزموں کے ساتھ ملا ہوا ہے، عدالت نے درخواست پر اایس ایچ او ڈیفنس بی کو رپورٹ سمیت طلب کرلیا ہے۔