ملک اشرف : پنجاب پولیس گزشتہ ڈیڑھ سال سے مغوی شہری کو بازیاب کرانے میں کامیاب نہ ہو سکی، مغوی کی عدم بازیابی پر آئی جی پنجاب عبد الکریم لاہور ہائیکورٹ پیش ،عدالت نے مغوی کی بازیابی کے لیے پولیس کو 9 اپریل تک مہلت دے دی۔
جسٹس فاروق حیدر نے شہری عثمان علی کی درخواست پر کی۔ درخواست گزار نے اپنے بھائی علی حسن کی بازیابی کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے ،سماعت کے دوران آئی جی پنجاب عبد الکریم کے علاوہ آر پی او گوجرنوالہ خرم شہزاد اور ڈی آئی جی لیگل ملک اویس احمد بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مدثر نوید چٹھہ نے آئی جی پنجاب کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کی۔ جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا کہ آئی جی پنجاب کی رپورٹ کے پیرا نمبر 36 میں کیا درج ہے۔ اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ’’ہوٹل آئی‘‘ کے نام سے ایک ایپ موجود ہے جو ہوٹلوں میں قیام پذیر افراد کا ریکارڈ مرتب کرتی ہے۔ آر پی او گوجرانوالہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ ایپ آن لائن نظام کے تحت فوری معلومات فراہم کرتی ہے۔ آر پی او گوجرنوالہ خرم شہزاد نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں عبداللہ اور عاصم نامی دو ملزمان اشتہاری ہیں۔ جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آیا یہ افراد چوری یا ڈکیتی جیسے جرائم میں بھی ملوث تو نہیں۔ آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم عبداللہ اشتہاری ہے اور اس وقت متحدہ عرب امارات میں موجود ہے جس کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔
جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ پولیس کی تفتیش اب درست سمت میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مقدمے کی تفتیش تبدیل کر دی گئی ہے، جس پر آر پی او گوجرانوالہ نے بتایا کہ مقدمے کی تفتیش تبدیل کر دی گئی ہے اور اب یہ سینئر افسران پر مشتمل ٹیم کر رہی ہے۔عدالت نے مزید استفسار کیا کہ ایسا کوئی طریقہ موجود ہے جس سے اگر کسی شخص کی ہلاکت ہو جائے تو اس کا پتہ چلایا جا سکے۔ اس پر آر پی او گوجرانوالہ نے بتایا کہ ڈی این اے کی مدد سے کسی کی ہلاکت کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق درخواست گزار کو ڈی این اے دینے کے لیے کہا گیا تھا تاہم انہوں نے عدالت کے حکم پر ڈی این اے دینے کا کہا ہے، عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ڈی این اے کیوں نہیں دے رہے، اس کیس میں آپ کو پولیس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ عدالت گزشتہ ڈیڑھ سال سے اس بچے کی بازیابی کے لیے کوشش کر رہی ہے، درخواست گزار کو چاہیے کہ وہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔
جسٹس فاروق حیدر نے مزید کہا کہ ’’ہم سب اللہ تعالیٰ کو جواب دہ ہیں‘‘۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کی رپورٹ کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی پنجاب ایک اچھے افسر ہیں اور عدالت ان کی رپورٹ سے مطمئن ہے۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں اور مغوی کی بازیابی کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 9 اپریل تک ملتوی کر دی اور پولیس کو مغوی کی بازیابی کے لیے مہلت دے دی۔