سٹی42: انڈونیشیا میں ایک ٹک ٹاکر کو حضرت یسوع المسیح کے متعلق نفرت پھیلانے کے جرم میں تین سال قید کی سزا سنا دی گئی، استغاثہ نے سزا کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اس میں اضافہ کی اپیل دائر کی ہے۔
مبینہ طور پر اپنے فون پر حضرت عیسیٰ کی تصویر سے ’بات کرنے‘ اور انھیں بال کٹوانے کی ترغیب دینے پر تقریباً تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
حضرت عیسیٰ المسیح کی توہین کرنے کی مرتکب انڈونیشئین ٹانس جیڈر خاتون کا نام رتو تھیلیسا ہے اور اس کے ٹک ٹاک پر چار لاکھ 42 ہزار سے زیادہ فالوورز ہیں۔
اس پرسن نے مسیھی مذہب کے بانی حضرت یسوع المسیح کی توہین کی یہ حرکت لائیو سٹریم کرنے کے دوران کی اور اسے اس کے بہت سے فالوورز نے دیکھا۔ کسی فالوور نے اس ٹرانس جینڈر پرسن کو لائیو سٹریم میں مشورہ دیا تھا کہ وہ مردوں کی طرح نظر آنے کے لئے اپنے بال کتوا لے۔ اس مشورے کا جواب دیتے ہوئے اس نے الٹا حضرت یسوع المسیح کی تصویر سے مخاطب ہو کر کہا، انہین اپنے بال کٹوا لینا چاہئے۔
سیدنا یسوع المسیح کی جو شبیہہ دنیا بھر میں مسیحی مذہب کے پیروکار تعظیم کے ساتھ استعمال کرتے ہیں اس میں ان کی لامبی زلفیں دکھائی جاتی ہیں۔ ان کی شباہت کے بارے میں شاگردوں نے یہی شہادتین دی تھیں کہ ان کی لامبی زلفیں تھیں۔
ٹرانس جیڈر ٹک ٹاکر کے اس تبصرے کو انڈونیشیا کے مسیھیوں نے توہین آمیز تصور کیا اور متعدد مسیحی گروپوں کی جانب سے پولیس کے پاس ٹک ٹاکر خاتون کے خلاف توہین مذہب کی شکایات درج کروائی گئیں۔
پیر کو سماٹرا کی ایک عدالت نے تھیلیسا کو آن لائن نفرت انگیز بیان کے قانون کے تحت نفرت پھیلانے کا مجرم قرار دیا اور دو سال اور 10 ماہ قید کی سزا سنا دی۔
عدالت نے رتو پر توہینِ مذہب کا الزام بھی عائد کیا اور قرار دیا کہ اس کے تبصرے معاشرے میں ’عوامی نظم و ضبط‘ اور ’مذہبی ہم آہنگی‘ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
عدالتی فیصلہ سے نامطمئین
استغاثہ نے رتو کو چار سال سے زیادہ کی سزا دینے کی درخواست کی تھی اور سزا میں اضافے کے لیے اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی کی ہے۔
نفرت انگیز کلام کی مجرم رتو تھیلیسا کو فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے سات دن کا وقت دیا گیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے بعض دوسرے گروپوں نے اس سزا کو "آزادیِ اظہار پر حملہ" قرار دیا ہے اور سزا سنانے والی عدالت کی مذمت کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسے ’رتو تھیلیسا کی آزادی اظہار پر حملہ‘ قرار دیتے ہوئے سزا کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈونیشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عثمان حامد نے ایک بیان میں کہا کہ ’انڈونیشیا کے حکام کو سوشل میڈیا پر کئے گئے تبصروں پر لوگوں کو سزا دینے کے لیے ملک کے الیکٹرانک انفارمیشن اینڈ ٹرانزیکشنز قانون کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔‘
عثمان حامد نے ٹرانس جینڈر ٹک ٹاکر کے اقدام کو منافرت پھیلانے والا ماننے کی بجائے الٹا یہ قرار دیا کہ اس کی بات پر مقدمہ درج کروانے والوں نے مذہبی منافرت پھیلائی۔ ایمنسٹی کے عہدیدار نے کہا کہ ’انڈونیشیا کو مذہبی منافرت پھیلانے کی وکالت کرنے پر پابندی لگانی چاہیے جو امتیازی سلوک، دشمنی یا تشدد کو اکساتی ہے اور یہ کہ رتو تھیلیسا کا عمل اس حد تک نہیں پہنچتا۔‘
عثمان حامد نے انڈونیشیا کے حکام سے خاتون ٹک ٹاکر کی سزا کالعدم کرنے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اہلکار نے انڈونیشین حکام پر یہ بھی زور دیا کہ وہ قانون کی ’مسائل پیدا کرنے والی دفعات‘ کو منسوخ کریں یا اس میں خاطر خواہ ترمیم کریں۔
انڈونیشیا میں یہ قانون پہلی بار 2008 میں متعارف کرایا گیا اور آن لائن ہتک عزت کے سنگین واقعات سے نمٹنے کے لیے 2016 میں اس میں ترمیم کی گئی۔
یہ قانون انٹرنیٹ پر عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے تیار کیا گیا تھا ۔ انسانی حقوق کے گروپوں، پریس گروپس اور قانونی ماہرین کی طرف سے اس پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔
سنہ 2019 اور 2024 کے درمیان کم از کم 560 افراد پر اس قانون قانون کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا ۔ ان میں سے 421 افراد کو اس قانون کے تحت سزا سنائی گئی جن میں کئی سوشل میڈیا انفلوئنسرز شامل ہیں جن پر ہتک عزت اور نفرت انگیز تقریر کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
ستمبر 2023 میں، ایک مسلمان خاتون کو اسلام کی توہین کرنے پر دو سال قید کی سزا سنائی گئی، جب اس نے ایک ٹک ٹاک ویڈیو پوسٹ کی جس میں اس نے سور کا گوشت کھانے سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھا جو مسلمان عموماً پاک کھانے کے آغاز پر پڑھتے ہیں۔
2024 میں ایک شخص کو توہین مذہب کے الزام میں حراست میں لیا گیا ۔ اس نے اپنی ٹک ٹاک ویڈیو کلپ میں بچوں سے پوچھا تھا، "کس قسم کے جانور قرآن مجید پڑھ سکتے ہیں۔"
انڈونیشیا میں اگرچہ مسلمان اکثریت میں ہیں لیکن یہاں بہت سی مذہبی اقلیتیں بھی رہتی ہیں جن میں بدھ، مسیحی اور ہندو شامل ہیں، بہت سے انڈونیشئین اگناسٹک اور دہریے بھی سوشل پلیت فارمزپر اپنے خیالات کے پرچار میں مصروف رہتے ہیں۔۔
ای آئی ٹی قانون کی خلاف ورزی کرنے پر جن لوگوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں عام طور پر ان کا تعلق مذہبی رجحانات پر تنقید کرنے والے سرگرم گروہوں سے ہی رہا ہے اور رتو تھیلیسا کا معاملہ، جہاں ایک بظاہر مسلمان خاتون پر مسیحیت کے خلاف نفرت انگیز تقریر کرنے کا الزام ہے، عام نہیں ہے۔