ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے ساڑھے تین سالہ بچے سے بدفعلی کرکے اسے قتل کرنے کے جرم میں پھانسی پانے والے مجرم کی اپیل خارج کردی ، چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے ریمارکس دئیے کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں.
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مجرم ندیم اسلم کی سزائے موت کنفرم کردی,ملزم نے ہنجروال کے علاقے میں بچے سے زیادتی کے بعد اس قتل کرکے ڈیڈ باڈی بورری میں کرکے جھاڑیوں میں پھینک دی تھی ,چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سزائے موت کے مجرم کی اپیل پرفیصلہ سنایا ,ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل رانا احسن عزیز نے سرکار کی جانب سے دلائل دئیے اور عدالت کو بتایا کہ ملزم نے بچے سے بد فعلی کے بعد اس قتل کیا ، اور لاش بوری میں بند کرکے جھاڑیوں میں پھینک دی ، پولیس نے ملزم کے انکشاف پر بوری بند ڈیڈ باڈی اور آلہ قتل برآمد کیا ،چشم دید گواہوں نے مقتول کو ملزم کے ساتھ موٹر سائیکل پر آخری مرتبہ دیکھا ملزم سے موٹٹر سائیکل بھی برآمد کی، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل رانا احسن عزیز نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ پولیس تفتیش ،میڈیکل رپورٹ میں ملزم قصور وار ہے، سیشن کورٹ نے میرٹ پر 2022 میں سزائے موت کا حکم سنایا، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل ے استدعا کی مجرم کی بریت کے لئے دائر اپیل خارج کی جائے ،مجرم ندیم اسلم نے سیشن عدالت کے سزائے موت دینے کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا ، وکیل صفائی نے مجرم کی بریت کے لیے دلائل دئیے لیکن عدالت کو مطمئن نہ کرسکا.