سٹی42: سوشل میڈیا انفلوئنسر رجب بٹ کی اصلیت ایک بار پھر سامنے آ گئی۔ اس مرتبہ رجب بٹ پر پہلے سے زیادہ گندا اور سنگین الزام سامنے آیا ہے۔ صرف الزام ہی نہیں لگا بلکہ مقدمہ بھی درج ہو گیا ہے۔
لاہور میں یو ٹیوب سے پیسہ بنا کر "انفلوئنسر" کہلانے والے رجب بٹ پر ریپ کے ملزم کی معاونت کرنے، ریپ ہونے والی خاتون کو کمرے میں بند کرنے اور ان کے فون سے شواہد مٹانے جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے۔
دوسرے نام نہاد انفلوئنسرز مان ڈوگر سمیت 5 افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے۔
انتہائی سنگین الزامات پر مشتمل یہ ایف آئی آر لاہور کے نواب ٹاون میں ایک اور "انفلوئنسر" عائشہ شرافت کی درخواست پر درج کی گئی ہے۔
لاہور کے نواب ٹاؤن تھانے میں ایک خاتون سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی جانب سے ریپ، بلیک میل اور غیر قانونی قید کے الزامات کے بعد یوٹیوبرز رجب بٹ اور مان ڈوگر سمیت پانچ افراد کے خلاف سنگین فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق، خاتون کا دعویٰ ہے کہ اس کی سوشل میڈیا کے ذریعے سلمان حیدر نامی شخص سے دوستی ہوئی جو رجب بٹ کا کزن ہے۔
شکایت کنندہ نے مزید بتایا کہ یوٹیوبر رجب بٹ نے اسے مبینہ طور پر سلمان بٹ کے گھر کے ایک کمرے میں بند کر دیا جہاں اسے اس کی مرضی کے خلاف رکھا گیا۔ دیگر ساتھی، بشمول مان ڈوگر، بھی مبینہ طور پر اس کی غیر قانونی قید کے دوران موجود اور ملوث تھے۔
عائشہ شرافت نے بتایا کہ رجب بٹ، مان ڈوگر، جواد حیدر نے انہیں ریپ کرنے والے ملزم کے گھر پر انہیں اور ان کی بہن کو ایک کمرے میں بند کر کے حبس بے جا میں رکھا۔ ان کا اور ان کی بہن کے موبائل فون چھین کر ان میں موجود شواہد برباد کر دیئے۔ سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور ریپ کے ملزم کی مدد کی۔
خاتون "انفلوئنسر" کی تحریری درخواست پر رجب بٹ اور اس کے پانچ ساتھیوں پر درج کی گئی ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ "انفلوئنسر" عائشہ شرافت کی سلمان حیدر سے سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی تھی۔ سلمان نے انہیں کئی مرتبہ ریسٹورنٹس پر ڈیٹ کیا اور پھر رائے ونڈ روڈ پر ایک مکان میں بلا کر خاتون انفلوئنسر کے دعوے کے مطابق "نشہ آور چیز "پلا کر انہیں نشے کی حالت میں ریپ کر دیا۔
خاتون انفلئنسر کی ایف آئی آر مین درج ہے کہ ملزم سلمان نے ان کی پورنو ویڈیوز بنائین اور انہیں بلیک میل کرتا رہا۔
خاتون انفلوئنسر عائشہ نے بتایا کہ اس دوران ملزم سلمان نے ان کی پورنو ویڈیو کلپس ان کی بہن پلوشہ کو بھی دکھائیں۔
عائشہ نے بتایا کہ وہ اور ان کی بہن پلوشہ ملزم سلمان کو ویڈیو کلپس پھیلانے سے منع کرنے کے لئے اس کے گھر گئیں تو اس وقت سلمان کے گھر پر سلمان کے گھر موجود رجب بٹ ، مان ڈوگر ، جواد حیدر نے ان دونوں بہنوں کو کمرے میں بند کردیا۔
سلمان اور جہانگیر بٹ بھی ان افراد کے ساتھ موجود تھے۔ اس دوران رجب بٹ کے ساتھی ملزم جواد حیدر نے ہم بہنوں کا موبائل پکڑ کر "ری سیٹ " کردیا
موبائل ری سیٹ کرنے کے بعد ہمیں ڈرا دھمکا کر وہاں سے نکال دیا۔
لاہور کے نواب ٹاؤن پولیس سٹیشن میں یہ ایف آئی آر تو درج کر لی گئی ہے لیکن اب تک کسی ملزم کو گرفتار کرنے کی کوئی اطلاع نہیں۔
پولیس نے تصدیق کی کہ پاکستان پینل کوڈ کے متعلقہ سیکشنز کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور یہ کہ حقائق کی تصدیق اور ہر ملزم کے ملوث ہونے کی حد کا تعین کرنے کے لیے فی الحال تفتیش جاری ہے۔
اس نوعیت کے سنگین جرائم میں ملوث ملزموں کو فوراً گرفتار نہ کیا جائے تو وہ وکٹم پر سماجی دباؤ ڈالنے سے لے کر سنگین جرم تک کرنے تک کچھ بھی کر ڈالتے ہیں۔
پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ہراسمنٹ کے کیسز میں اپنی زیرو ٹالرنس کی پالیسی کو اب تک عام مجرموں پر ہی آزمایا ہے، اس کیس میں پنجاب کی حکومت کے لئے چیلنج ہے کہ وہ منظم گروہ کو سلاخوں کے پیچھے کیسے پہنچاتی ہے یا پھر پولیس کے ملزموں کو وکٹم خاتون پر دباؤ دالے جانے اور "صلح صفائی" پر مجبور کرنے کا موقع فراہم کرنے کے عمل پر خاموش رہتی ہے۔