پنجاب حکومت کتنے کھرب کا بجٹ پیش کرے گی؟خبر آگئی

پنجاب حکومت کتنے کھرب کا بجٹ پیش کرے گی؟خبر آگئی

(علی رامے) پنجاب حکومت کا نئے مالی سال میں کل بجٹ کا حجم پچھلے مالی سال سے 18 فیصد زائد دینے کی تجویز، نئے مالی سال میں تحریک انصاف کی حکومت 21 کھرب 61 ارب روپے کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کرے گی جبکہ ترقیاتی بجٹ کا کل حجم 350 ارب روپے ہوگا۔

پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال2019-20 کے بجٹ کے حجم کا تخمینہ 2161اعشاریہ 3 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو رواں مالی سال 2018-19 کے 1831 اعشاریہ ایک ارب روپے کے نظر ثانی شدہ بجٹ سے 18 فیصد زائد ہو گا، بجٹ میں پنجاب کو این ایف سی کے تحت قابل تقسیم محاصل کی مد میں 1494 ارب روپے ملیں گے جبکہ صوبائی آمدنی کا حجم 368 ارب روپے ہو گا جس میں قابل ٹیکس آمدنی کا حجم 283 ارب روپے جبکہ غیر محاصل آمدنی کا حجم 85 ارب روپے ہو گا، کرنٹ کیپٹل آمدنی کا تخمینہ 33 ارب روپے لگایا گیا ہے، فارن پراجیکٹ اسسٹنس کے لیے 27 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 350 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، پنجاب ریونیو اتھارٹی کو آئندہ مالی سال کے لئے ٹیکس وصولی کا ہدف 160 ارب روپے دیا جائے گا، رواں مالی سال پی آر اے کو ٹیکس وصولی کا ہدف 155 اعشاریہ چھ ارب دیا گیا جسے بعد میں نظرثانی کر کے 105 ارب روپے کر دیا گیا ہے، اسی طرح بورڈ آف ریونیو کو آئندہ مالی سال کے لئے ٹیکس وصولی کا ہدف 80 ارب روپے دیا جائے گا، رواں مالی سال کے لئے بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس وصولی کا ہدف 75 اعشاریہ 3 ارب روپے تھا جسے نظرثانی کر کے72ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

مختلف محکموں کو ٹیکس کی مد میں دیئے جانے والے اہداف کے مطابق محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو ٹیکس وصولی کا ہدف 35 اعشاریہ 7 ارب روپے دیا جائے گا۔ رواں مالی کے لئے اسے ٹیکس وصولی کا ہدف 37 اعشاریہ 7 ارب روپے ملا تھا، اسی طرح آئندہ مالی سال میں محکمہ انرجی کو 6 اعشاریہ 8 ارب روپے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو 0.7 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کا ہدف دیا جائے گا۔