ویب ڈیسک:ایران میں پر تشدد مظاہروں میں اموات کی تعداد 65 ہوچکی ہے جبکہ ایرانی فورسز نے 200 سے زائد منتظم کو گرفتار کر لیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایران میں جاری مظاہروں کے دوران مشتعل افراد نے عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سکیورٹی فورسز نے تہران کے قریبی قصبے سے 100 مسلح فسادی گرفتار کر لیے جبکہ 24 گھنٹوں میں پُر تشدد مظاہروں کے 200 سے زائد منتظم بھی گرفتار کرلیے گئے جن سے بڑی تعداد میں اسلحہ، بارود اور گرنیڈ برآمد کر لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اب تک ملک بھر سے مجموعی طور پر اڑھائی ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، ملک بھر میں مسلسل تیسرے روز بھی انٹرنیٹ سروس بند ہے، ایرانی پاسداران انقلاب نے ملکی دفاع کو سرخ لکیر قرار دے دیا جبکہ ایرانی فوج نے بھی ہر سازش ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ایک بیان میں ایرانی فوج نے اسرائیل پر امن و امان اور ملک میں عوامی سلامتی کو خراب کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کمانڈر انچیف کی سربراہی میں خطے میں دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے، ایرانی فوج نے قومی مفادات اور عوامی املاک کا تحفظ کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
اس حوالے سے ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ برس کی 12 روزہ جنگ میں ایرانی بچوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے اب ایران میں حالیہ فسادات کی سازش کے ذمے دار ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ فوج سپریم کمانڈر اِن چیف کی قیادت میں دیگر مسلح افواج کے ساتھ مل کر خطے میں دشمن کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور فوج طاقت کیساتھ قومی مفادات، اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک کا تحفظ کرے گی۔