ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ 2026 کے خلاف دائر درخواستوں پر آئندہ سماعت پر اسپیشل سیکرٹری ہوم کو طلب کر لیا جبکہ سی سی پی او سے بسنت تہوار کے دوران ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی۔
جسٹس ملک محمد اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایس ایس پی آپریشنز توقیر، ڈپٹی سیکرٹری ہوم افضل بشیر اور دیگر متعلقہ افسران عدالت میں پیش ہوئے۔ ہوم سیکرٹری کی جانب سے مختلف محکموں کی رپورٹس بھی عدالت میں جمع کروائی گئیں۔،درخواست گزار وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ وہ ابتدا میں بسنت قانون کے خلاف عدالت آئے تھے، تاہم عدالت کی مداخلت کے بعد سیفٹی اقدامات اور انتظامات کو یقینی بنایا گیا۔ محفوظ بسنت کے انعقاد کا کریڈٹ عدالت کو جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ بسنت تہوار کے خلاف نہیں بلکہ اس کے محفوظ انعقاد کے حامی ہیں۔
وکیل اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ اگر عدالت حکم نہ دیتی تو متعلقہ محکمے مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کرتے۔ عدالت کے احکامات کے بعد ہی متعلقہ ادارے متحرک ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ ڈور سے گلے کٹنے کے واقعات نسبتاً کم ہوئے، تاہم اب تک چھ افراد جاں بحق اور ایک سو چوبیس زخمی ہو چکے ہیں۔
دوران سماعت جسٹس ملک محمد اویس خالد نے استفسار کیا کہ کیا ایس ایس پی آپریشنز عدالت میں موجود ہیں، جس پر ایس ایس پی آپریشنز توقیر نے اپنی موجودگی کی تصدیق کی۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ آیا ہوم ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر محکموں کے نمائندے بھی موجود ہیں، جس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ ڈپٹی سیکرٹری ہوم افضل بشیر سمیت دیگر افسران پیش ہیں۔ڈپٹی سیکرٹری ہوم نے عدالت میں رپورٹ جمع کروا دی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ سی سی پی او کی جانب سے آئندہ سماعت پر بسنت کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے،۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18 فروری بروز منگل تک ملتوی کر دی۔