ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چھ سال قبل مبینہ طور پر اغوا ہونے والی خاتون فوزیہ بی بی کی بازیابی سے متعلق اہم سماعت

چھ سال قبل مبینہ طور پر اغوا ہونے والی خاتون فوزیہ بی بی کی بازیابی سے متعلق اہم سماعت
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : چھ سال قبل مبینہ طور پر اغوا ہونے والی خاتون فوزیہ بی بی کی بازیابی سے متعلق اہم سماعت ، درخواست گزار سائلہ مغویہ کی بازیابی کے لیے کوٹی دستاویزی ثبوت فراہم نہ کرسکے ،عدالت نے مغویہ کا نادرا ریکارڈ ، شناختی کارڈ سمیت دیگر دستاویزات نہ بنوانے پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے درخواست نمٹادی اور پولیس کو ہر پندرہ روز بعد کارکردگی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سائلہ حمیداں بی بی کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار خاتون نے اپنی بیٹی فوزیہ بی بی کی بازیابی کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا ،ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا، ڈی آئی جی لیگل ملک اویس احمد ، اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل وقاص عمر کے ہمراہ پیش ہوئے ، درخواست گزار کا وکیل مغویہ کی بازیابی کے لیے کوئی قابلِ اعتماد یا دستاویزی ثبوت پیش نہ کرسکا جس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے نادرا ریکارڈ، شناختی کارڈ اور دیگر بنیادی دستاویزات نہ بنوانے پر شدید حیرت اور ناراضی ظاہر کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پولیس فائل خالی ہے، کوئی ہراگرس نہیں کی گئی۔یہ چیف جسٹس کی عدالت ہے، کوئی مذاق نہیں!" اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مغویہ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے کانسٹیبل کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے ،چیف جسٹس نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مغویہ کا شناختی کارڈ، فارم ’ب‘، فیملی رجسٹریشن یا کسی اسکول کا ریکارڈ کیوں موجود نہیں۔ "آپ نے شادی کی ویڈیو بنوالی، شناختی کارڈ نہیں بنوایا۔ آپ کو پتہ ہے دنیا کہاں تک پہنچ گئی ہے!""فارم ’ب‘ تک نہیں بنوایا، اسکول کا ریکارڈ نہیں۔ پھر ہم کیسے مدد کریں؟""کچھ تو دستاویزات دیں، یہ عدالت ڈائلاگ کے لیے نہیں ہے۔""آپ نے ایک سماعت پر کہا تھا کہ بچی کو جن لے گئے؟ یہ عدالتیں ڈائلاگ کے لیے نہیں، ثبوت کے لیے ہیں!"عدالت نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ جب مغویہ کی 2019 میں شادی کی ویڈیو موجود ہے تو شہری دستاویزات کیوں نہیں بنوائے گئے۔اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل وقاص عمر نے بتایا کہ پولیس نے عدالت کے حکم پر انکوائری کی، تین افراد نے تفتیش جوائن کی جن میں مغویہ کا بھائی ،درخواست گزار کا داماد مغویہ کا ماموں شامل ہیں ،تاہم شناختی دستاویزات نہ ہونے کے باعث ٹیکنالوجی کے ذریعے تفتیش میں مشکلات درپیش ہیں۔
عدالت نے فریقین کا مؤقف سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے درخواست نمٹا دی اور پولیس کو حکم دیا: کہ ہر پندرہ روز بعد کیس پر پیش رفت رپورٹ جمع کرائی جائے۔ اس کیس میں فوزیہ بی بی کے اغوا کا مقدمہ 2019 میں تھانہ کاہنہ میں درج کیا گیا تھا، جس میں مغویہ کے شوہر اور ساس کو نامزد کیا گیا تھا۔

Ansa Awais

Content Writer