سٹی42:وزارت صنعت و پیداوار نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال کرشنگ سیزن کے آغاز سے قبل چینی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ انکشاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جہاں وزارت کے حکام نے بتایا کہ 15 نومبر سے پہلے مارکیٹ میں چینی کی مصنوعی قلت پیدا کیے جانے کا امکان ہے۔
وزارت کے حکام کے مطابق ملک میں اس وقت 17 لاکھ ٹن چینی کے ذخائر موجود ہیں، جو 15 نومبر 2025 تک کیلئے کافی سمجھے جا رہے ہیں۔ تاہم، حکام نے خبردار کیا کہ ہول سیلرز اور مارکیٹ فورسز چینی کی دستیابی کو محدود کر کے مصنوعی قلت پیدا کر سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق شوگر ملز کے ساتھ طے ہوا تھا کہ چینی 140 روپے سے زیادہ نہیں جائے گی، کنونیئرکمیٹی عاطف خان نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ایکسپورٹ ہونے کے بعد چینی کی قیمت بڑھی۔
حکام نے کہا کہ چینی کی برآمد روکنے کے بعد مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ ہوا، اس وقت ملک میں چینی کی اوسطا قیمت 179 روپے فی کلو ہے۔