سٹی42: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کسی جواز کے بغیر چین کی امریکہ آنے والی مصنوعات پر ٹیرف میں مزید 50 فیصد اضافہ کر کے ٹوٹل ٹیرف 125 فیصد کیا تو آج چین نے بھی امریکی مصنوعات کی چائنہ امپورٹ پر عائد ٹیرف میں مزید اضافے کا اعلان کردیا۔ اس ٹیرف کے نفاذ کے بعد امریکہ سے بھیجی ہوئی پروڈکٹس چین میں ناقابلِ فروخت ہو کر مارکیٹ سے آؤٹ ہو گئی ہیں۔
لیکن اس دوران ٹرمپ انتظامیہ نے چینی امپورٹس پر ٹیرف مزید بڑھا کر 145 فیصد کر ڈالا ہے۔ لیکن چین امریکی امپورٹس پر ٹیرف مزید نہیں برھائے گا کیونکہ چین کی وزارت خزانہ نے کہا کہ امریکہ کی امپورٹس پر ٹیرف کی شرح اس سے زیادہ نہیں بڑھائی جائے گی کیونکہ چینی مارکیٹ میں امریکی مصنوعات کے لیے قبولیت کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی۔ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ ٹیرف کی اس شرح پر امریکی مصنوعات کی درآمدات کا سلسلہ تقریباً بند ہو جائے گا۔
چین اور باقی دنیا کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی یک طرفہ ٹیرف وار کی سزا ساری دنیا ک کو مل رہی ہے اور غریب ترین لوگوں کو سب سے زیادہ سزا مل رہی ہے جن کے کھانے کی روٹی کے نوالے ٹرمپ کے ٹیرف ہتھوڑے کے ہر وار کے ساتھ مزید چھوٹے ہوتے جاتے ہیں۔۔
بدھ کے روز، ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چین کی امریکہ آنے والی امپورٹس پر لیوی کو بڑھا کر 125 فیصد کر رہے ہیں۔ اس آفیشل اعلان کو لے کر چین کے متعلقہ وزارتوں نے جمعہ کے روز امریکی امپورٹس پر ٹیرف مزید بڑھا کر 84 فیصد سے 125 فیصدر کر دیا۔ لیکن کل 10 اپریل کو وائت ہاؤس نے نئی وضاحت کی کہ چین کی پروڈکٹس پر ٹیرف دراصل 145 فیصد ہے۔
اس "145پرسنٹ" کا جواب چین کی طرف سے جواب آنا ابھی باقی ہے جو یقیناً ٹیرف میں مزید اضافہ کی صورت میں نہیں ہو گا۔
کیونکہ چین کے پریذیڈنٹ ایک ہی بار ٹرمپ کے ٹیرف حملوں کے متعلق بولے ہیں اور انہوں نے دو باتیں کہیں؛ ایک یہ کہ جو کچھ امریکہ کرے گا وہی کچھ جواب میں چین کرے گا، دوسرے یہ کہ ٹیرف وار کا فاتح کوئی نہیں ہو گا۔
اس کے بعد آج وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا کہ چین کی وزارت خزانہ نے کہا کہ امریکہ کی امپورٹس پر ٹیرف کی شرح اس سے زیادہ نہیں بڑھائی جائے گی کیونکہ چینی مارکیٹ میں امریکی مصنوعات کے لیے قبولیت کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی۔ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ ٹیرف کی اس شرح پر امریکی مصنوعات کی درآمدات کا سلسلہ تقریباً بند ہو جائے گا۔
ٹرمپ کے ٹیرف اٹیک کے جواب میں چین کے اقدام کے بعد امریکہ اور یورپ کی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جبکہ ٹوکیو اور سیئول کی مارکیٹیں منفی زون میں بند ہوئیں۔
یورو کے مقابل ڈالر ڈاؤن
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اَن پریڈکٹ ایبل پالیسیوں پر عالمی سرمایہ کاروں کی تشویش کے باعث ڈالر کی قدر یورو کے مقابلے میں تین سال کی کم ترین سطح پر آ گئی جبکہ ین کے مقابلے میں ڈالر کی قدر 1.3 فیصد گر چکی ہے۔
چینی اسٹیٹ کونسل ٹیرف کمیشن کے مطابق امریکی مصنوعات پر نئے ٹیرف ہفتے سے نافذ العمل ہوں گے جن کی شرح تقریباً ان 145 فیصد ٹیرف کے برابر ہے جو امریکا نے چین پر عائد کیے ہیں۔
چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے ٹرمپ کے ٹیرف کو نمبرز کا کھیل اور ایک مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کا مکمل ذمہ دار امریکہ ہے۔
چین کی وزارت خزانہ نے کہا کہ امریکہ کی امپورٹس پر ٹیرف کی شرح اس سے زیادہ نہیں بڑھائی جائے گی کیونکہ چینی مارکیٹ میں امریکی مصنوعات کے لیے قبولیت کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی۔ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ ٹیرف کی اس شرح پر امریکی مصنوعات کی درآمدات کا سلسلہ تقریباً بند ہو جائے گا۔
چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے عائد کردہ تازہ ٹیرف کے سلسلے میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں قانونی چارہ جوئی کرے گا۔