ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عالمی مارکیٹ میں سونا مہنگا، فی اونس قیمت کہاں پہنچ گئی؟

امریکی شرحِ سود میں اضافے کے باوجود ڈالر کو خاطر خواہ مضبوطی حاصل نہیں ہو رہی

عالمی مارکیٹ میں سونا مہنگا، فی اونس قیمت کہاں پہنچ گئی؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:عالمی مارکیٹ میں جمعرات کے روز سونے کی قیمت میں معمولی تیزی دیکھی گئی، جس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی کمزور ہوتی قدر اور سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکا کے اہم افراطِ زر کے اعداد و شمار کا انتظار ہے۔ مارکیٹ میں یہ رپورٹس امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرحِ سود سے متعلق پالیسی کا تعین کرنے میں اہم قرار دی جا رہی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد بڑھ کر 4,410.28 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز برائے دسمبر 0.1 فیصد کمی کے بعد 4,457.20 ڈالر فی اونس پر آگئے۔

میریکس کے تجزیہ کار ایڈورڈ میئر کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں خلیج فارس کی جغرافیائی سیاسی کشیدگی سونے کی قیمتوں پر نسبتاً کم اثر ڈال رہی ہے، جبکہ امریکی ڈالر کی کمزوری قیمتی دھات کو سپورٹ فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکی شرحِ سود میں اضافے کے باوجود ڈالر کو خاطر خواہ مضبوطی حاصل نہیں ہو رہی۔

ڈالر کی قدر میں کمی کے باعث دیگر کرنسیوں میں لین دین کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے ڈالر میں قیمت والے سونے سمیت قیمتی دھاتوں کی خریداری نسبتاً سستی ہوگئی ہے۔ مارکیٹ کی نظریں امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار پر ہیں جو جمعرات کو جبکہ صارف قیمتوں کے اشاریے (CPI) کے اعداد و شمار جمعہ کو جاری کیے جائیں گے۔

ماہرین کے مطابق افراطِ زر سے متعلق یہ اعداد و شمار فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے لیے اہم ہوں گے۔ رائٹرز کے حالیہ اقتصادی ماہرین کے سروے میں زیادہ تر ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ امریکی مرکزی بینک 15 اور 16 ستمبر کے اجلاس میں شرحِ سود موجودہ سطح پر برقرار رکھے گا اور سال کے باقی عرصے میں بھی شرحِ سود میں اضافہ نہیں کرے گا۔

اے این زیڈ کے سینئر کموڈٹیز اسٹریٹجسٹ ڈینیئل ہائنز کے مطابق امریکا میں بڑھتا ہوا مالیاتی دباؤ بھی سونے کی قیمت کو سہارا دے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے امریکی حکومتی قرضوں اور طویل مدت میں ڈالر کی قدر کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی حکومت کا مجموعی قرض پہلی مرتبہ 40 ٹریلین ڈالر کی حد عبور کر گیا تھا، جس کے بعد ملک کی مالی صورتحال اور ممکنہ مالیاتی بحران سے متعلق خدشات دوبارہ نمایاں ہوئے ہیں۔

دوسری جانب دیگر قیمتی دھاتوں میں اسپاٹ سلور کی قیمت 0.3 فیصد اضافے سے 67.50 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ پلاٹینم 0.4 فیصد کمی کے بعد 1,888.05 ڈالر جبکہ پیلاڈیم 0.2 فیصد اضافے سے 1,356.20 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔