سٹی42: بالی وڈ کی خوبرو اداکارہ ایشوریہ رائے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) پلیٹ فارمز کو اپنی پورنو فلمیں بنانے سے روکنے کے لئے ان کے خلاف عدالت پہنچ گئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ کے وکلا کی ٹیم نے متعدد اے آئی پلیٹ فارمز کے خلاف ان کی تصاویر، ویڈیوز اور آواز کو نامناسب مواد کے لیے استعمال کیے جانے پر نئی دہلی کی عدالت میں مشترکہ درخواست دائر کردی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فحش مواد کے لیے اداکارہ کا نام، تصاویر اور آواز بغیر اجازت اور غیر قانونی طور پر استعمال کرنے سے روکا جائے۔
درخواست گزار ایشوریہ رائے سابق ملکہ حسن اور بڑی اداکارہ ہیں۔ ایش کا کہنا ہے کہ ان کے نام، تصاویر اور آواز کو مختلف اے آئی پلیٹ فارمز کی جانب سے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے نامناسب اے آئی جنریٹِڈ ویڈیوز بنانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس سے اداکارہ کی کردار کشی ہو رہی ہے۔ لہٰذا یہ سب بند ہونا چاہیے۔
ایشوریہ رائے کے وکلا نے درخواست میں ایک فہرست بھی فراہم کی ہے جس میں اداکارہ ایشوریہ رائے کے نام سے منسوب جعلی و فحش مواد پوسٹ کرنے والی ویب سائٹس کے نام درج ہیں۔
درخواست میں ان ای کامرس کی ویب سائٹس کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں جو اداکارہ کی اجازت کے بغیر ان کے نام سے اشیا فروخت کر رہے ہیں۔
اداکارہ ایشوریہ رائے نے ابتدائی طور پر کسی پلیٹ فارم پر ہرجانے کا دعویٰ دائر نہیں کیا بلکہ صرف اپنی تصویریں، ویدیوز، آواز اور نام کو فحش مواد بنانے میں استعمال کئے جانے سے روکنے کی استدعا کی ہے۔ اس درخواست کے منظور ہونے کی صورت میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی سے فیک مواد خاص طور سے پورنو مواد پھیلائے جانے سے پریشان تمام انسانوں کے تحفظ کا راستہ کھل جائے گا۔
ایشوریہ رائے کی درخواست پر عدالت نے نومبر تک تمام فریقین کو دلائل سمیت طلب کرلیا جب کہ کیس کا باضابطہ آغاز جنوری 2026 میں ہونے کا امکان ہے۔