سٹی42: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں موسمیاتی اور زرعی ایمرجنسی لگانے کا اعلان کردیا۔ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے ملک میں زرعی اور موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دے دی۔
آج اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز نے ملک میں کلائمیٹ اور زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ شہباز شریف نے کہا سیلاب نے گلگت، بلتستان، آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں تباہی مچادی، اور اب سندھ کی وادیوں میں پانی داخل ہو رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے زراعت میں جو نقصان ہوا ہے، اس کی تفصیل آئندہ ہفتے سامنے آجائے گی، نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اس کو کابینہ میں لایا جائے گا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کوئی ایک ہزار کے لگ بھگ پاکستانی سیلاب کی نذر ہوچکے ہیں، اللہ کو پیارے ہوگئے، ہزاروں زخمی ہوگئے، ہزاروں ایکڑ زمین پنجاب میں زیر آب ہے، اب سیلاب سندھ میں جا رہا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب سے جو تباہ کاری اور نقصانات ہوئے، اس حوالے سے آج کابینہ میں مشاورت کے بعد کلائمٹ ایمرجنسی اور زرعی ایمرجنسی کا اعلان کر رہا ہوں اور اس کے ساتھ ہی ایک کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں تا کہ اس پر فی الفور کام شروع کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اعلان کے بعد ایپکس لیول پر اجلاس بلا رہے ہیں جس میں عرق ریزی کے ساتھ گفتگو کرکے ایک پالیسی بنائیں گے۔
شہباز شریف نے کہا، میں نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کے سیکرٹری کی ذمے داری لگائی ہے کہ آپ ایک پروگرام تیار کریں، ہم راتو ں رات موسماتی تبدیلیوں سے نہیں نمٹ سکتے، بہت بڑے چیلنجز ہیں، اس میں اکیلا پاکستان کچھ بھی نہیں کر سکتا، سب کو مل کر کرنا ہوگا، لیکن ایک روڈ میپ پیش کرنا چاہیے۔ سر دست ہم ملک بھر میں تباہ کن سیلاب کے بعد ملک میں زراعت اور موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کر رہے ہیں، کیونکہ اس سیلاب سے لاکھوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ سیلاب اور بارشوں نے ملک بھر میں بے پناہ انسانی اور مالی نقصانات کے ساتھ تباہی مچائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گندم اور کپاس جیسی مختلف فصلوں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا کیونکہ سیلابی ریلا سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
وزیراعظم کا دورہ چین
وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورہ چین کے بارے میں کہا کہ انہوں نے چینی قیادت سے دوطرفہ ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے چین میں بزنس کانفرنس کے انعقاد کو ’’بہت موثر اور اچھا‘‘ قرار دیا اور تقریب کو کامیاب بنانے پر کابینہ کے ارکان، SIFC، DPM/FM اور عہدیداروں کو سراہا۔
شہباز شریف نے فالو اپ کی ضرورت پر زور دیا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ضروری تھا اور انہوں نے یہ واضح کیا کہ وہ ’اسٹیٹس کو، کسی خوشامد یا غیر معمولی تاخیر کی اجازت نہیں دیں گے‘ جس نے ملک کی ساڑھے سات دہائیوں کی تاریخ کو نشان زد کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بیجنگ میں پاک چین B2B سرمایہ کاری کانفرنس 8.5 بلین ڈالر کے معاہدوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جو دوطرفہ اقتصادی تعاون کو نئی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) فیز II کے تحت زراعت کے شعبے پر توجہ دی جائے گی اور چین اپنی چھتری کے تحت مختلف منصوبوں میں 85 فیصد سرمایہ کاری کرے گا جبکہ 15 فیصد سرمایہ کاری پاکستان کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں کانوں اور معدنیات کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کریں گی، انہوں نے مزید کہا کہ وہ چین کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنرشپ کو مضبوط بنانے کے علاوہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔
میجر عدنان اسلم شہید کو خراج عقیدت
وزیراعظم نے میجر عدنان اسلم شہید کی بہادری کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے صوبہ خیبرپختونخوا میں فتنہ الخوارج کے کارندوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے تھے جہاں انہوں نے سوگوار خاندان کے افراد سے ملاقات کی جن کے حوصلے مرحوم کے بیٹے کی طرح بہت بلند تھے۔
وزیراعظم نے ملک کے دشمنوں سے لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے افسروں اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی ضرورت پر بھی زور دیا جو سوشل میڈیا پر سیکورٹی فورسز کے خلاف نازیبا مواد پھیلا رہے ہیں اور اسے انتہائی قابل مذمت قرار دیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے عناصر کی نشاندہی کریں اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کے ساتھ ایسا نفرت انگیز رویہ ناقابل برداشت ہے اور اسے ایک 'فتنہ' قرار دیا جسے کچل دیا جانا چاہیے۔
کابینہ نے وزیر چوہدری جنید انور، صادق سنجرانی اور دیگر کی مرحومہ کی ماؤں کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔