ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کا زیر حراست ملزمان کے انٹرویوز پر پابندی، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم , لاہور ہائیکورٹ نے زیر حراست ملزمان کے انٹرویوز کرانے اور میڈیا کے سامنے پیش کرنے کے عمل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا۔
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے شہری وشال احمد شاکر کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران سی ٹی او ڈاکٹر اطہر وحید، ڈائریکٹر سائبر کرائم حشمت کمال، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عمر شیر چٹھہ، ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان اور ڈی آئی جی لیگل اویس ملک عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دئیے کہ دوران ڈیوٹی میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرنے والے ٹریفک وارڈنز، ایکسائز اور پولیس اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔"وارڈن قانون کے مطابق چالان ضرور کریں لیکن اگر وارڈن نے کیمرے کے سامنے ویڈیو بنوائی تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔" جسٹس علی ضیاء باجوہ نے مزید سوال اٹھایا کہ "کیا ملزم کی ویڈیو بنائے بغیر تفتیش نہیں ہو سکتی؟"ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان نے عدالت میں موقف پیش کیا کہ کہ ان کے خیال میں زیر حراست ملزمان کی تشہیر مناسب نہیں ہے۔ اس موقع پر جسٹس علی ضیاء باجوہ نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے جو فیصلہ دیا تھا، اس پر عمل درآمد کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟عدالت کو بتایا گیا کہ فیلڈ ڈیوٹی پر موجود افسران اور اہلکاروں کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ میڈیا نمائندوں سے بات نہ کریں اور نہ ہی زیر حراست ملزمان کے انٹرویوز کرائیں۔،سماعت مکمل ہونے پر عدالت نے شہری وشال احمد شاکر کی درخواست منظور کرلی اور کہا کہ اس حوالے سے تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App