ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستانی نژاد برطانوی وزیرداخلہ نے پاکستانیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

Shabana Mahmood, British Foreign Minister, Five Eyes, Illegal Immigrants, British Visa Policy,
کیپشن: شبانہ محمود کی ایک فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: پاکستانیوں کے لئے اہم ترین یورپی ملک کی پاکستانی نژاد خاتون سیاستدان نے وزیر داخلہ بنتے ہی پاکستان سے بھاگ کر  جانے والوں کے مسئلہ کو لے کر سارے پاکستانیوں کے ہی ویزے بند کرنے کی پالیسی نافذ کرنے کا نعرہ لگا دیا۔ پاکستان سے قانونی طور پر جانے والوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بج گئی۔

انگلینڈ کی نئی وزیر داخلہ شبانہ محمود  پاکستانی نثاد لیبر سیاستدان ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ جو ملک انگلینڈ میں غیر قانونی طور پر گھسنے کی کوشش کرنے والے اپنے شہریوں کو واپس نہیں لیں گے، ان کے لئے انگلینڈ کے ویزے معطل کر دیئے جائیں گے۔ ان کی بنیادی تشویش کشتیوں کے ذریعہ چھپ کر انگلینڈ میں گھسنے کی کوشش کرنے والے ہزاروں افراد کو انگلینڈ آمد سے روکنے کے متعلق ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ شبانہ محمود اپنی پالیسی کو نافذ کریں گی تو پاکستان اس کی زد میں آنے والے ملکوں میں شامل ہو گا۔

شبانہ محمود کا "ویزا معطلی" پلان کیا ہے

8 ستمبر 2025  کو انگلینڈ  کی نئی مقرر کردہ ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے اعلان کیا کہ برطانیہ ان ممالک کو ویزا جاری کرنے کو معطل یا محدود کر سکتا ہے جو غیر قانونی طور پر برطانیہ میں پناہ کے متلاشیوں یا دیگر شہریوں کی واپسی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
شبانہ محمود نے اپنی نئی مجوزہ پالیسی کا اعلان  فائیو آئیز (برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ) کی میٹنگ کے دوران پیش کیا۔ برٹش وزیر داخلہ  شبانہ محمود نے چھوٹی کشتیوں کی گزرگاہوں کے ذریعے غیر قانونی نقل مکانی کو کم کرنے کے اپنے عزم پر زور دیا۔

شبانہ محمود  نے کہا کہ (غیر قانونی امیگرنٹس کے اصل وطن)ممالک کو "قواعد کے مطابق چلنا چاہیے" اور "اپنے شہریوں کو واپس لے جانا چاہیے، ورنہ برطانیہ ان ممالک کے شہریوں کے لیے مستقبل کے ویزے کاٹ/ روک سکتا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ انگلینڈ کی نئی وزیر داخلہ کی اس پالیسی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال شامل ہیں، جہاں ویزے کی طلب زیادہ ہے لیکن غیر قانونی امیگرنٹس کی واپسی پر تعاون کم ہے۔

برطانوی عوام کا ردعمل؛ امیگریشن پر عوامی جذبات

انگلینڈ میں YouGov کے ایک حالیہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً 45% برطانوی نئے امیگریشن کو روکنے اور حالیہ آنے والوں کو ملک بدر کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ چھوٹی کشتیوں سے آنے والوں کو ملک بدر کرنے کے لیے سپورٹ سب سے مضبوط ہے (93%)، لیکن قانونی کارکنوں (44%)، پناہ کے متلاشیوں (39%) اور غیر ملکی طلبہ (26%) ک کو انگلینڈ آنے سے روکنے کی پالیسی بنانے کے لئے حمایت بہت کم ہے۔
ایک اور سروے سے پتہ چلتا ہے کہ تین چوتھائی برطانویوں کا خیال ہے کہ لیبر پارٹی کی حکومت ازائلم ہوٹلوں پر زیادہ خرچ کر رہی ہے۔ جب کہ دو تہائی کے خیال میں حکومت کی پناہ کی پالیسی بہت نرم ہے۔


میڈیا فریمنگ اور ادارہ جاتی ردعمل

فنانشل ٹائمز، رائٹرز، اور دی گارڈین جیسے بڑے نیوز  آؤٹ لیٹس نے محمود کے موقف کو امیگریشن کنٹرول کے بارے میں ایک تیز، زیادہ مضبوط موقف کے طور پر بیان کیا، جو اس کے پیشرو   لیبر پارٹی وزیر داخلہ کے نقطہ نظر سے قدرے مختلف کا اشارہ دیتا ہے۔
شبانہ محمود اور لیبر پارٹی کے سیاسی حریفوں کے درمیان رائے ملی جلی ہے: جب کہ کرس فلپ (کنزرویٹو) جیسی شخصیات ٹھوس کارروائی کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہیں، وہ لیبر کو فوری نفاذ کے بغیر صرف "سخت الفاظ" پیش کرنے پر تنقید کرتے ہیں۔

شبانہ محمود کی نئی سخت پالیسی پر برٹش عوام کا ردعمل

شبانہ محمود نے غیر قانونی امیگرنٹس کی آمد روکنے کے لئے کئی ملکوں کے وزیے روکنے جیسا سخت دباؤ  ڈالنے کی پالیسی اختیار کرنے کا اعلان صرف ایک دن پہلے کیا ہے۔ انگلینڈ میں اس پر ابھی تک کوئی واضح عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ابھی تک اس ویزا معطلی کی تجویز پر عوامی ردعمل کی پیمائش کرنے والا کوئی براہ راست پولنگ ڈیٹا یا وسیع پیمانے پر رپورٹ شدہ سروے نہیں ہے۔

سیاسی پناہ سے متعلق اخراجات اور ہجرت کے سخت نفاذ کی خواہش کے بارے میں شبانہ کے اس اعلان سے پہلے کافی عوامی مایوسی رہی ہے۔اب شبانہ محمود کے سخت موقف کی حمایت کو ہہوا مل سکتی ہے۔

پاکستان پر ممکنہ اثر، پاکستان کا ممکنہ ردعمل
یہ منصوبہ ان ممالک کے ویزوں کو معطل یا محدود کرتا ہے جو سیاسی پناہ کے ناکام متلاشیوں کو واپس لینے سے انکار کرتے ہیں یا ٹال متول کرتے ہیں۔
ممکنہ طور پر ہدف بننے والے ممالک میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال شامل ہیں۔
بظاہر اس پالیسی کا مقصد تعاون نہ کرنے والے ممالک پر دباؤ بڑھانا، چھوٹی کشتیوں کی کراسنگ کو کم کرنا ہو گا۔
پاکستان میں اس ممکنہ پالیسی پر ابھی تک کوئی واضح ردعمل نہیں آیا۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ اگر شبانہ محمود نے اپنے الفاظ کو عملی جامہ پہنایا تو پاکستان غیر قانونی امیگرنتس کو واپس لینے  میں تعاون کی طرف جائے گا۔ پاکستان کی حکومت یورپ اور افریقہ کے سمندروں میں کئی ڈِنکی حادثات کے بعد سے غیر قانونی امیگرنٹس خصوصاً کشتیوں اور کنٹینروں میں چھپ کر جانے والوں پر اور انہیں لے جانے والے ایجنٹوں پر کریک ڈاؤن کر رہی ہے۔