ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مضر صحت مرچ پاؤڈر و ہلدی فروخت کرنے والے ملزم کی عبوری ضمانت کیس ,تفصیلات طلب

 مضر صحت مرچ پاؤڈر و ہلدی فروخت کرنے والے ملزم کی عبوری ضمانت کیس ,تفصیلات طلب
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کے مضر صحت مرچ پاؤڈر و ہلدی فروخت کرنے والے ملزم کی عبوری ضمانت کیس میں فوڈ اتھارٹی اور پولیس پر سوالات،عدالت نے  مقدمات  جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم  کی تشکیل کی منظوری اور میٹنگ منٹنس کی تفصیلات طلب کرلیں .

لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ملزم عبید احمد کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، جس پر فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ڈی جی فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید وکلاء کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران  جسٹس علی ضیاء باجوہ نے فوڈ اتھارٹی کے مقدمات کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جوانٹ انویسٹیگیشن ٹیم) کی منظوری کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیے کہ "فوڈ اتھارٹی کے مقدمات کی تفتیش ایک فوڈ سیفٹی افسر اور ایک پولیس افسر نے کرنی تھی، یہ معاملہ کہاں تک پہنچا؟"ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے جواب دیا کہ  معاملہ صوبائی کابینہ کو بھیجا گیا تھا جس نے منظوری دے دی ہے اور اب فوڈ اتھارٹی کے مقدمات کی تفتیش جے آئی ٹی کرے گی۔ تاہم عدالت نے سوال اٹھایا کہ کابینہ کی منظوری کے باوجود نوٹیفکیشن اور میٹنگ منٹس کہاں ہیں؟
عدالت کے حکم پر ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان روسٹرم پر پیش ہوئے۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ نے استفسار کیا کہ "کابینہ نے منظوری دے دی تو اب تک جے آئی ٹیز تشکیل کیوں نہیں دی گئیں؟" جس پر ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ سی سی پی او سمیت تمام افسران کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور فوڈ اتھارٹی نے پورے پنجاب میں سرکلر بھی جاری کردیا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ "یہ کہا جا رہا ہے کابینہ کے سامنے پیش ہوا، لیکن کیا گورنر حکومت کا حصہ  نہیں؟ اگر کابینہ نے منظوری دی ہے تو نوٹیفکیشن اور منٹس کہاں ہیں؟" جس پر ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے جواب دیا کہ فی الحال وہ دستاویزات موجود نہیں ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ کابینہ کی میٹنگ منٹس اور منظوری آئندہ سماعت پر لازمی پیش کی جائیں۔ ساتھ ہی ایڈیشنل آئی جی کو ہدایت دی گئی کہ وہ ڈی جی فوڈ کے ساتھ کوآرڈینیشن کریں اور آئندہ سماعت پر کوئی ذمہ دار افسر پیش ہوں۔عدالت نے ملزم عبید احمد کی عبوری ضمانت میں آئندہ ہفتے تک توسیع کردی۔

Ansa Awais

Content Writer