جناح ہسپتال ایک با ر پھر میدان جنگ بن گیا

جناح ہسپتال ایک با ر پھر میدان جنگ بن گیا


حسن خالد: جناح ہسپتال میں معمولی تلخ کلامی پر مریض کے لواحقین کا ڈاکٹروں پر مبینہ تشدداورتوڑ پھوڑ،ہسپتال میدان جنگ کامنظر پیش کرنے لگا،ینگ ڈاکٹرز نے سرجیکل ایمرجنسی میں کام بندکردیا، علاج معالجہ تعطل کا شکار رہا۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن3بجے 13 نومبر 2018  

تفصیلات کے مطابق   جناح ہسپتال کی ایمرجنسی میں رات گئےاقبال ٹاؤن سے 15 سالہ احمدشفیق کوگلےمیں ڈور پھرنےپرہسپتال لایا گیا ،اس دوران مریض کےساتھ آئے لواحقین علاج میں تاخیرپرطیش میں آگئے اور ڈیوٹی ڈاکٹرپرتھپڑوں کی بارش کردی،دس سےزائد افراد نے ڈاکٹروں کوتشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اے ایم ایس دفتر میں توڑپھوڑبھی کی۔

واقعے کے بعد ینگ ڈاکٹرز نے تین افراد کو دبوچ لیا جبکہ دیگر فرار ہوگئے،ینگ ڈاکٹرز نے سیکیورٹی کی عدم سہولیات پر سرجیکل ایمرجنسی میں کام کرنے سے انکار کردیا،کام بند ہونے سے مریض اور انکے لواحقین کوسخت اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ڈاکٹر شبیر چوہدری نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ متاثرہ مریض کا بروقت علاج معالجہ شروع کردیا گیا تھا،لواحقین کو ایمرجنسی سے باہر جانے کا کہا گیا تو انہوں نے طیش میں آکر تشدد شروع کردیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہسپتال میں سیکیورٹی برائے نام ہے،ڈاکٹروں کو مکمل سیکیورٹی ملنےتک ایمرجنسی میں کام بند رہے گا۔ ینگ ڈاکٹرز نےتشدد کرنے والےتین افراد فیضان،اسفند اور احمد کو پولیس کےحوالے کر کے اندراج مقدمہ کے لیے درخواست دے دی،ینگ ڈاکٹرز نے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے سیکیورٹی فراہم کرنےکا مطالبہ بھی کیا۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:شہباز شریف کو ٹھنڈ لگ گئی

 

محمد ساجد

محمد ساجد