پاکستانیوں کیلئے اچھی خبر، بڑی پابندی ختم

پاکستانیوں کیلئے اچھی خبر، بڑی پابندی ختم

مال روڈ (شہزاد خان) سستی سی این جی کی دستیابی کی راہ ہموار، تمام رکاوٹیں دور ہو گئیں،آئل اینڈ گیس ریکولیٹری اتھارٹی نے نئے سی این جی لائسنس جاری کرنا شروع کردیئے، معیاری سی این جی کٹس کی درآمد کی اجازت بھی دیدی گئی۔

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما غیاث عبداللہ پراچہ کا کہنا ہے کہ اوگرا نے قانونی تقاضے پورے کرنے والے درخواست گزاروں کو نئے لائسنس جاری کرنا شروع کر دیئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ سی این جی کٹس کی درآمد پر بھی عائد پابندی اٹھالی گئی ہے اور ان پر عائد درآمدی ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس میں کمی کردی گئی، جس سے اس کاروباری کی حوصلہ افزائی ہو گی، اب ملک میں نئی گاڑیوں کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی حامل سی این جی کٹس ملک میں دستیاب ہوں گی جو صارفین کو ایندھن کی مد میں15 فیصد اضافی بچت کا فائدہ دیں گی۔

انھوں نے کہا کہ پرائیویٹ درآمدی گیس ایل این جی کی دستیابی کے ساتھ ان تمام اقدامات کی وجہ سے سی این جی پر گاڑیاں چلانے کا رجحان بڑھے گا جس سے عوام کو سفری اخراجات میں 40 فیصد تک بچت ہوسکے گی، حکومتی فیصلوں سے اس شعبہ میں نئی سرمایہ کاری ہوگی اور تقریبا تین لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا جبکہ جن علاقوں میں سی این جی نہیں ہے وہاں بھی یہ ایندھن دستیاب ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ سی این جی قدرتی گیس ہے  جو عام طور پر گھروں میں چولھا جلانے کے لیے پائپ لائن سے آتی ہے اور پاکستان میں یہ سوئی گیس کہلاتی ہے، یہ میتھین پر مشتمل ہوتی ہے جسے کیمیاء میں CH4 سے ظاہر کیا جاتا ہے، یہ پٹرول اور ڈیزل کے متبادل کے طور پر گاڑیوں میں استعمال کی جاتی ہے، دنیا میں گاڑیاں چلانے کے لیے سب سے زیادہ سی این جی ایران میں استعمال ہوتی ہے، پاکستان دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ارجنٹینا تیسرے نمبر پر ہے۔