ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پیٹرول مہنگا، ای بائیکس کا رجحان تیز: کیا الیکٹرک بائیکس واقعی زیادہ فائدہ مند ہیں؟

پیٹرول مہنگا، ای بائیکس کا رجحان تیز: کیا الیکٹرک بائیکس واقعی زیادہ فائدہ مند ہیں؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد الیکٹرک بائیکس (ای بائیکس) کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، روزمرہ سفری اخراجات بڑھنے سے شہری اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ای بائیکس روایتی پیٹرول موٹر سائیکلوں کے مقابلے میں زیادہ سستی اور معاشی حل ثابت ہوسکتی ہیں یا نہیں۔

 پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں
تازہ ترین اضافے کے بعد 9 مئی 2026 سے پیٹرول کی قیمت 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے، اس حساب سے ایک عام موٹر سائیکل کا 10 لیٹر ٹینک فل کروانے پر تقریباً 4 ہزار 150 روپے خرچ آتا ہے۔

 پیٹرول بائیک بمقابلہ ای بائیک: فی کلومیٹر خرچ کتنا؟
ماہرین کے مطابق ایک عام موٹر سائیکل اوسطاً 35 سے 40 کلومیٹر فی لیٹر مائلیج دیتی ہے، جس کے باعث فی کلومیٹر ایندھن کی لاگت تقریباً 10 سے 11 روپے بنتی ہے۔

 دوسری جانب ایک ای بائیک کی بیٹری چارج کرنے پر تقریباً 110 سے 130 روپے خرچ ہوتے ہیں اور ایک چارج پر 60 سے 80 کلومیٹر سفر ممکن ہوتا ہے اس طرح ای بائیک کی فی کلومیٹر لاگت صرف ڈیڑھ سے 2 روپے تک رہتی ہے۔

 ماہانہ ہزاروں روپے کی بچت ممکن
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ 50 کلومیٹر سفر کرنے والا شہری ای بائیک استعمال کرکے ماہانہ 12 سے 13 ہزار روپے تک بچا سکتا ہے۔ جبکہ ڈلیوری رائیڈرز یا زیادہ سفر کرنے والے افراد کی ماہانہ بچت 25 ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

 ای بائیک اور عام موٹر سائیکل کی قیمتوں کا فرق
پاکستان میں ایک عام پیٹرول موٹر سائیکل کی قیمت تقریباً 1 لاکھ 60 ہزار سے 1 لاکھ 85 ہزار روپے تک ہے، جبکہ لیتھیم بیٹری والی ای بائیکس 2 لاکھ 20 ہزار سے 3 لاکھ 50 ہزار روپے تک فروخت ہو رہی ہیں۔

 تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کوئی صارف روزانہ 50 کلومیٹر سفر کرے تو ای بائیک کی اضافی قیمت تقریباً 9 سے 10 ماہ میں پوری ہوسکتی ہے۔

 ای بائیکس کے چیلنجز بھی موجود
اگرچہ ای بائیکس سستی سفری سہولت فراہم کر رہی ہیں، تاہم ان کے ساتھ کچھ مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق لوڈشیڈنگ، بیٹری کی محدود عمر، شدید گرمی میں کارکردگی میں کمی اور کم ری سیل ویلیو اہم چیلنجز ہیں۔

 زیادہ تر ای بائیکس کی رفتار 50 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود ہوتی ہے جبکہ ایک چارج پر ان کی اوسط رینج 60 سے 70 کلومیٹر ہوتی ہے۔

 بیٹری تبدیل کرنا بڑا خرچہ
ای بائیکس میں استعمال ہونے والی لیتھیم بیٹریاں عموماً ڈھائی سے ساڑھے تین سال تک کارآمد رہتی ہیں، نئی بیٹری لگوانے پر 60 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے تک خرچ آسکتا ہے جو صارفین کے لیے ایک اہم مالی پہلو ہے۔

 کن افراد کے لیے ای بائیک زیادہ فائدہ مند؟
ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں روزانہ طویل سفر کرنے والے افراد، طلبہ اور ڈلیوری سروسز سے وابستہ لوگوں کے لیے ای بائیکس زیادہ فائدہ مند ثابت ہو رہی ہیں، جبکہ کم سفر کرنے والے افراد کے لیے روایتی موٹر سائیکل اب بھی نسبتاً سستا آپشن ہوسکتی ہے۔

 مستقبل میں ای بائیکس کی مانگ مزید بڑھنے کا امکان
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور حکومتی لیویز میں اضافہ جاری رہا تو پاکستان میں ای بائیکس کی مانگ مزید بڑھ سکتی ہے  تاہم اس تبدیلی کو کامیاب بنانے کے لیے ملک میں مستحکم بجلی کا نظام، بہتر چارجنگ انفرااسٹرکچر اور مضبوط سروس نیٹ ورک ناگزیر ہوگا۔