ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے ایم ایس پنجاب ڈینٹل ہسپتال سید محسن شاہ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا اور پنجاب حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس خالد اسحاق نےڈاکٹر محمد عاصم فاروقی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی ، درخواست گزار کی جانب سے میاں بلال بشیر ایڈوکیٹ نے دلائل دئیے ، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب ڈینٹل ہسپتال کے ایم ایس کے عہدے پر ایک ایسے ڈاکٹر کو تعینات کیا گیا ہے جو ڈینٹل سرجن نہیں بلکہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں، جبکہ قواعد و ضوابط کے مطابق اس عہدے پر ڈینٹل کیڈر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کی تعیناتی ہونی چاہیے۔ وکیل کے مطابق یہ تعیناتی رولز کے برعکس ہے اور اس غیر قانونی اقدام کی وجہ سے ہسپتال کے انتظامی اور مالی امور بھی متاثر ہو رہے ہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اس تعیناتی کے باعث ادارے میں انتظامی مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور اس وقت ڈینٹل ہسپتال عملی طور پر قانونی طور پر تعینات سربراہ کے بغیر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی بطور ایم ایس تعیناتی کو کالعدم قرار دیا جائے اور کیس کے حتمی فیصلے تک متعلقہ افسر کو عہدے پر کام کرنے سے روکا جائے۔
سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عدالت کو اس معاملے پر تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔ جس پر عدالت نے ابتدائی طور پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے سید محسن شاہ کی بطور ایم ایس تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا پورے پنجاب میں کوئی قابل اور سینئر ڈینٹل ڈاکٹر موجود نہیں تھا جسے ڈینٹل ہسپتال کا ایم ایس تعینات کیا جا سکے۔ عدالت نے پنجاب حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔
عدالت نے درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے مزید کارروائی آئندہ سماعت تک ملتوی کر دی۔