علی رامے:رمضان نگہبان کارڈز کی تقسیم میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آگئیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق کارڈز کی تقسیم کے دوران متعدد انتظامی اور تکنیکی مسائل سامنے آئے ہیں جن کے باعث مستحق افراد تک امداد کی فراہمی متاثر ہوئی۔
ذرائع کے مطابق کئی ایسے افراد کے نام پر بھی نگہبان کارڈز جاری کیے گئے جو یا تو وفات پا چکے ہیں یا بیرون ملک مقیم ہیں۔ اسی طرح ایک ہی شناختی کارڈ پر ڈپلیکیٹ کارڈز کی پرنٹنگ کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ موبائل نمبرز کی تکرار اور ڈیٹا میں غلطیوں کے باعث تقسیم کے عمل میں مشکلات پیش آئیں، جبکہ بعض کارڈز پر درج نام اور فون نمبرز بھی غلط پائے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ مستحق افراد نے شکایت کی کہ ایپ میں ان کا ڈیٹا موجود نہیں تھا جس کے باعث انہیں کارڈ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید یہ کہ بعض کیسز میں ایسے افراد کے نام سامنے آئے جو اس وقت جیل میں موجود ہیں، جبکہ کچھ مقامات پر خالی لفافے ملنے کی شکایات بھی موصول ہوئیں۔
رپورٹ میں نگہبان کارڈز کی تقسیم کے نظام میں موجود انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے بعد حکام نے فوری طور پر ڈیٹا کی تصحیح اور ڈپلیکیٹ کارڈز کی دوبارہ پرنٹنگ کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے کیسز میں متبادل اہل خانہ کی تفصیلات حاصل کر کے امداد پہنچانے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
حکام نے مزید ہدایت دی ہے کہ اربن یونٹ، بینک آف پنجاب اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ مل کر تمام تکنیکی اور انتظامی مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ مستحق افراد کو امداد کی فراہمی شفاف اور مؤثر طریقے سے یقینی بنائی جا سکے۔