ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے ایک اہم مقدمے میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم محمد یونس کو بری کرنے کا حکم دے دیا اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا بھی کالعدم قرار دے دی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے 19 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا اسے شک کا فائدہ دیا جاتا ہےتفصیلی فیصلے میں عدالت نے ریمارکس دیئے کہ انسان جھوٹ بول سکتے ہیں لیکن دستاویزی شواہد اپنی نوعیت میں زیادہ معتبر ہوتے ہیں عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ واقعہ دوپہر کے وقت پیش آیا جبکہ ایف آئی آر رات 12 بج کر 12 منٹ پر درج کی گئی، یعنی 12 گھنٹے سے زائد کی تاخیر ہوئی، جس کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی گئی،فیصلے کے مطابق اگر ملزم کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں ہے تو اسے فوری طور پر جیل سے رہا کیا جائےملزم محمد یونس کے خلاف اگست 2014 میں تھانہ بصیر پور، ضلع اوکاڑہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا ایڈیشنل سیشن جج دیپالپور نے31 مارچ 2021 کو ملزم کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی عدالت عالیہ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کر لی جبکہ مقتول حاجی محمد صدیق کے لواحقین کی جانب سے سزا بڑھانے کی اپیل بھی مسترد کر دی۔