ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  کیلی فورنیا کی خوفناک آگ؛ پیش گوئی جو حرف بحرف پوری ہوئی

باباونگا نے نہیں بتایا لیکن فائر فائٹرز نے کیلیفورنیا آگ ڈیزاسٹر کی پیشگوئی کی تھی

California Fire, fire fighter instinct
کیپشن: فائر فائٹرز سائنسی بنیاد پر کام کرتے ہیں اور سائنسی بنیاد پر ہی آگ لگنے کے امکانات، اس کے پھیلنے کے امکانات کا تجزیہ کرتے ہیں اور پھر ایسی کسی صورتحال کو روکنے اور اس سے نمٹنے کی تیاری کرتے ہیں۔ کیلی فورنیا کی آج ببربادی مچا رہی آگ کی پیش بینی فائر فائٹرز نے کی تھی، اس کو مینیج کرنے کے لئے مناسب اقدامات نہیں کئے گئے تھے۔ یہ سکرین شوٹ پوڈ کاسٹر جو روگن کی ویڈیو کلپ سے لیا گیا ہے، روگن نے فائر فائٹرز کی پیشگوئیاں جولائی 2024 میں نشر کی تھیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

   سٹی42:  نئے سال 2025 کے آغاز سے پہلے بابا ونگا کی دنیا کی تباہی کے متعلق پیش گوئیاں بیچنے والے نہ تو ڈونلڈ ٹرمپ کو نیویارک کی  عدالت کے جج  کے غضب کا شکار کو کر سزا یافتہ صدر کا تمغہ ملنے کی پیش گوئی کر سکے نہ ہی وہ لاس اینجلس میں برپا ہونے والے زمینی جہنم کے متعلق کچھ جان سکے۔ البتہ یہ حیرت کی بات ہے کہ ایک پوڈ کاسٹر جو روگن واقعتاً  کیلی فورنیا کے دل لاس اینجلس کے آگ سے پگھل جانے کی پیش گوئی کر چکے تھے۔

  ان کی پیش گوئیاں  درحقیقت آگ بجھانے کی سائنس کے ماہر مقامی فائر فائٹرز کے مشاہدات اور تجزیہ پر مشتمل تھیں۔ جو روگن ان افراد میں شامل تھے جن کو عین الیقین تھا کہ ایک روز یہ ہو کر رہے گا۔ آگ لگے گی اور ہوا کے سبب یہ قابو سے بہت باہر ہو کر بہت کچھ برباد کر دے گی۔ مقامی فائر فائٹرز کلائمیٹ اور ڈیموگریفی کی معلومات کی بنا پر یہ تجزئیے کر رہے تھے اور ان کے تجزیہ کی بنیاد آگ کو پھیلنے سے روکنے / ڈیزاسٹر مٹی گیشن  کے لئے ناکافی انویسٹمنٹ جیسے عوامل تھے۔

اب جیسی شدت کے ساتھ لاس اینجلس کی آگ پھیل رہی ہے ویسی ہی شدت کے ساتھ جو روگن کی آگ کے متعلق پیش گوئی بھی پھیل رہی ہے۔ یہ الگ بات کہ جب روگن نے یہ پیشگوئی کی تھی تب کسی نے  اس پر توجہ نہیں دی تھی کیونکہ روگن کے ساتھ بابا ونگا جیسا کلاؤٹ وابستہ نہیں تھا۔

 کیلیفورنیا کے جنگل میں لگنے والی حالیہ خوفناک آگ سےچھ ماہ قبل مشہور امریکی پوڈکاسٹر جو روگن نے اس حوالے سے ایک تشویشناک پیش گوئی کی تھی۔ جو روگن نے جولائی 2024 میں اپنے پوڈکاسٹ میں جنگلات میں لگنے والی آگ کے موضوع پر بات کی تھی۔ 

اس پوڈکاسٹ کے دوران انہوں نے ایک فائر فائٹر کے ساتھ اپنی گفتگو کا ذکر کیا جس نے آگ کے حوالے سے ایک تباہ کن منظر نامے کی پیش گوئی کی تھی۔

جو روگن نے فائر فائٹر کے الفاظ دہراتے ہوئے بتایا کہ ایک دن جب ہوا کی سمت "درست" ہوگی تو کسی بھی جگہ لگنے والی آگ پورے لاس اینجلس شہر کو جلاتے ہوئے سمندر تک پہنچ جائے گی۔

اس کلپ میں جو روگن نے جنگل میں لگنے والی آگ کے پھیلنے کے خوفناک پیمانے اور رفتار کو  (سائنسی حقائق سے جنم لیتےتخیل کی مدد سے) بیان کیا تھا کہ یہ آگ اتنی بڑھ سکتی ہے کہ64 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے ساتھ ہزاروں ایکڑ کے رقبے کو جلا سکتی ہے، ایک بار جب یہ شروع ہو جائے  تو یہ اتنی پھیل سکتی ہے کہ اسے بجھانے کے لیے  کچھ نہیں کیا جاسکے گا۔

 جو روگن نے  اپنے پوڈکاسٹ کی کئی ایپی سوڈز میں لاس اینجلس کے جنگلات کے آگ سے متاثر ہونے کے خطرے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔

ان کی یہ پیشگوئی اب لاس اینجلس میں لگی آگ کی صورت میں سچ ثابت ہوئی ہے جس سے علاقے میں دہشت پھیلی ہوئی ہے۔  ادارے موجود ہیں لیکن وہ آگ کو بجھانا نہیں جانتے۔  کوششیں غیر مؤثر ہیں جیسا کہ جو روگن نے پہلے فائر فائٹرز کے امیجی نیشن کی مدد سے بتایا تھا، تیز ہواؤں کے باعث آگ تیزی سے پھیل رہی  آگ کو روکنے کا کوئی ذریعہ دستیاب نہیں ۔

لاس اینجلس کی آگ کو اب امریکی تاریخ کی سب سے مہنگی آفت قرار دیا جا رہا ہے جس میں نقصان کا تخمینہ 150 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور یہ نقصان ہر گھنٹے بڑھ رہا ہے۔

ریاست کے حکام کا کہنا ہے کہ 6 ہزار سے زائد گھر اور عمارتیں تباہ ہوچکے ہیں، 4 سے 5 ہزار مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ گھروں اور عمارتوں کی انشورنس کرنے والی کمپنیاں برباد ہو چکی ہیں۔

 منگل کے روز سے لگی آگ نے 36 ہزار ایکڑ سے زائد رقبےکو لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس وقت 5 مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے۔

آگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو چکی ہے اوراس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ درجنوں افراد جھلسے ہوئے ہیں، کئی متعلقہ حادثات میں زخمی ہیں۔