ملک اشرف : گھریلو ناچاقی ،روٹھی بیوی کو منانے کا معاملہ ، لاہور ہائیکورٹ نے بیوی اور ساس کو قتل کرنے والے مجرم کی پھانسی کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے ,بیوی اور ساس کے قاتل کی دو مرتبہ پھانسی کی سزا برقرار رکھی.
جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ ہر مشتمل دو رکنی بینچ نے سزائے موت کے قیدی قمر عباس کی اپیل پر سماعت کی۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل وقاص انور نے مجرم کی بریت کی اپیل کی مخالفت میں مضبوط دلائل پیش کیے، جبکہ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نزہت بشیر اور ہارون الرشید بھی موقع پر موجود تھے۔ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل وقاص انور نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مجرم نے گھریلو ناچاقی پر بیوی شبنم ، ساس زبیدہ کو قتل جبکہ سالی سحر کو زخمی کیا ،مجرم کے خلاف تھانہ رینالہ خورد۔ ضلع قصور میں مقدمہ درج ہوا ،گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت ہوتی ہے، ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل نے عدالت کو مزید بتایا کہ میڈیکل شہادت سے بھی مجرمان پر قتل کا الزام ثابت ہوتا ہے، الہ قتل چھری ہر خون کی موجودگی اور مثبت فرانزک رپورٹ میں مجرم کی قصور وار پایا گیا،درخواست گزار مجرم کے وکیل نے دلائل دیے کہ گواہوں کے بیانات میں تضاد ہے.
وکیل صفائی نے مجرم کی بریت کی اپیل کے لیے دلائل دیے، لیکن عدالت مطمئن نہیں ہوئی۔ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد مجرم قمر عباس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔