رابی پیرزادہ کی ویڈیوز کس نے لیک کیں؟

رابی پیرزادہ کی ویڈیوز کس نے لیک کیں؟

(زین مدنی ) رابی پیرزادہ کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کے کہنے پرویڈیو لیک کرنیوالوں کیخلاف کارروائی نہیں کی۔

گلوکاری سے کنارہ کشی کرنے والی رابی پیرزادہ کا کہنا ہے کہ ویڈیوز وائرل کرنے والوں سے ان کی جان کو خطرہ تھا لہذا ایف آئی اے کے کہنے پر ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو میں رابی پیرزادہ نے اپنی وائرل ہونے والی ویڈیوزلیک کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے حوالے سے انکشاف کیا کہ ایف آئی اے نے میری ویڈیوز لیک اور وائرل کرنے والے تمام افراد کا سراغ لگالیا تھا وہ ٹوٹل 6 لوگ تھے جن میں سے 2 کا تعلق لاہور سے تھا جب کہ باقی دبئی میں بھی تھے جنہیں میری ویڈیوز لیک کرنے کے لیے پیسے دئیے گئے تھے۔تاہم ایف آئی والوں نے مجھے کہا کہ اس کی تفصیلات میں نہ جائیں کیونکہ اس سے آپ کی جان خطرے میں پڑسکتی ہے، تو زندگی تو سب کو پیاری ہوتی ہے۔ لہذا جن لوگوں نے میرے ساتھ یہ کیا یا میری ویڈیوز آگے شیئر کیں مجھے ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنی، مجھے لگتا ہے کہ میں اب اس چیز سے نکل آئی ہوں اور میں نے اپنا معاملہ اللہ کی عدالت میں چھوڑدیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس گلوکارہ رابی پیرزادہ کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں۔سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے خوب تنقید کی گئی جس کے بعد پاکستانی گلوکارہ رابی پیرزادہ نے شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ غیر اخلاقی ویڈیوز وائرل ہونے پر گلوکارہ رابی پیرزادہ نے سائبر کرائم سیل کو درخواست دی تھی. گلوکارہ رابی پیرزادہ نے درخواست میں سوشل میڈیا سے ویڈیوز ہٹانے کی استدعا کی جس کے بعد ایف آئی اے کے سائبر کرائم سیل نے گلوکارہ رابی پیرزادہ کی درخواست پر کارروائی کا آغاز کر دیا تھا.

ویڈیوز لیک ہونے کے بعد رابی پیرزادہ نے اپنی تمام تر زندگی اسلام کے اصولوں پر گزارنے کا ارادہ کیا۔اب ویڈیوز لیک کرنے والوں کے نام معلوم ہونے کے باجودہ بھی انھوں نے  اپنا معاملہ اللہ کی عدالت میں چھوڑدیا ہے۔رابی نے حال میں ہی عمرے کی سعادت بھی حاصل کرلی ہے۔ رابی پیرزادہ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ میرا اللہ جب جسے چاہے بلا لے مکہ سے جانے کو دل نہیں کرتا عمرہ کرکے بھی کعبہ شریف کو دیکھتے رہنا ادھر وقت گزارنے کا ثواب ملتا ہے جب خانہ کعبہ کو دیکھیں دعا ضرور کریں۔