سٹی42: بانی کی بہن علیمہ خان نے منگل کی سہ پہر ڈنڈے مارنے اور گولیاں چلانے کے چیلنج دیتے ہوئے اڈیالہ جیل والی سڑک پر "دھرنا" دیا اور رات ڈھلنے سے پہلے دھرنا چھوڑ کر اپنے گھر چلی گئیں۔ وہ ایسا پہلے بھی کئی مرتبہ کر چکی ہیں۔ نورین نیازی اور عظمیٰ بھی علیمہ کے ساتھ تھیں۔ ان کے ساتھ صرف گنتی کے کچھ مرد اور عورتیں موجود تھے۔
پولیس حکام نے تصدیق کر دی ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات نصف شب کے بعد جب اڈیالہ جیل والی سڑک پر پولیس چیک پوسٹ کے قریب بیٹھ جانے والی بانی کی تین بہنوں اور ان کے ساتھ موجود چند لوگوں نے سڑک پر پتھراؤ کرنا شروع کیا اور وہاں آگ لگانے کی کوشش کی تو اس کے بعد ان کو ہٹانے کے لئے ایک واٹر کینن کو سڑک پر لایا گیا اور کچھ لوگوں پر پانی پھینکا بھی گیا۔

واٹر کینن سے پانی کی بوچھاڑ شروع ہونے کے بعد وہاں موجود بانی کی بہنیں اٹھ کر چلی گئیں اور ان کے ساتھ موجود کچھ دوسری عورتیں اور مرد بھی چلے گئے۔ پانی پھینکے جانے کے دوران کسی کو کوئی نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع دن بھر کے دوران سامنے نہیں آئی۔
پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر اس واقعہ کی جو ایک دو ویڈیوز پوسٹ کیں ان میں واٹر کینن سے پانی سڑک پر مختلف سمت میں پھینکا جاتا نظر تو آ رہا ہے لیکن کسی کے اس پانی کی زد میں آنے کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
پی ٹی آئی کے ذرائع نے تصدیق کی کہ علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ نے اڈیالہ جیل کے قریب سڑک پر "دھرنا" پولیس کے واٹر کینن لے آنے کے بعد ختم کیا۔
راولپنڈی پولیس کا اس واقعہ کے متعلق بیان بدھ کی شام سامنے آیا۔ راولپنڈی پولیس نے کہا کہ رات کو نہ تو کسی قیدی سے ملاقات کا وقت ہوتا ہے اور نہ ہی بغیر عدالتی حکم کے کسی کو ملاقات کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ ہے جس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا بھی پولیس کی ذمہ داری ہے۔
اڈیالہ جیل کا علاقہ حساس اور گنجان آباد ہے جہاں سیکیورٹی اور ٹریفک کا نظام بحال رکھنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ پولیس نے سیاسی جماعت کے دھرنے کے دوران توڑ پھوڑ اور پولیس سے الجھنے کی تمام کوششوں کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا۔
پولیس کے مطابق گزشتہ شب پولیس کی جانب سے بارہا سمجھانے اور حتی المقدورتحمل کے باوجود سیاسی جماعت کے ارکان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ اور جلاؤ گھیراؤ کیا گیا جس پر قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا پڑا، شرانگیز سرگرمی اور حملے کی روک تھام کے لئے انتہائی تحمل اور حکمت عملی سے شر پسندوں کو منتشر کرنے کے لئے واٹر کینن کا استعمال کرنا پڑا۔
پنڈی پولیس نے مزید کہا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی، اڈیالہ جیل حساس علاقہ ہے جہاں اس قسم کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس سے پہلے جب علیمہ خان، عظمی اور نورین کو پولیس نے اڈیالہ جیل والی سڑک پر آگے جانے سے روکا تو انہوں نے وہیں بیٹھ کر دھرنا دینے کے اعلان کے ساتھ پولیس کو دھمکیاں دیں کہ ہمیں دنڈے مارو، ہم پر گولیاں چلاؤ، ہم تب بھی یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے۔ پولیس نے دس گھنٹے تک ان لوگوں کو کچھ نہیں کہا، لیکن جب نصف شب کے بعد بعض لوگوں نے پتھر پھینکنا شروع کئے تو پولیس افسروں نے پہلے سے تیار رکھی گئی پانی والی گاڑی بلوا لی۔