ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹریفک رولز وائلیشن؛ تاریخ ساز سزاؤں کاقانون پنجاب اسمبلی میں آ گیا

اب کالے شیشے لگوا کر سڑک پر گاڑی لانے والے نام نہاد وی آئی پی چھ ماہ تک جیل میں سڑیں گے، رول توڑنےوالے ٹرانسپورٹر بھاری جرمانے بھریں گے

Traffic Rules violation, Punjab Vehicals amendment bill, Punjab Assembly, city42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پنجاب کا  تاریخ ساز  صوبائی موٹر وہیکل آرڈیننس 2025 ترمیمی بل آج صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ اس بل میں وہ سب کچھ ہے جس کا عوام  سالہا سال سے خود مطالبہ کر رہے تھے۔ اب کالے شیشے لگوا کر سڑک پر گاڑی لانے والے نام نہاد وی آئی پی چھ ماہ تک جیل میں سڑیں گے۔ طاقتور لوگوں کے بچے کاریں  لے کر سڑکوں پر نکلیں گے تو ان کو سخت سزائیں اور بھاری جرمانے کئے جائیں گے۔ ٹریفک رولز کو مذاق سمجھنے والے ٹرانسپورٹر اب بھاری جرمانے بھریں گے۔

 عوام کی جانوں کے زیاں کا سبب بننے والے حادثات کو روکنے کے لئے  ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں اور بھاری جرمانے نئے قانون کا خاص فیچر ہیں۔  

گاڑیوں کے کالے شیشے لگا کر سڑکوں پر آنے والے نام نہاد وی آئی پی لوگوں کو اب  6 ماہ قید یا 50 ہزار جرمانہ کی سزا ہو گی۔

کم عمر بچوں کے ڈرائیونگ کرتے پکڑے جانے پر  6 ماہ قید ،50 ہزار تک جرمانہ ہوسکے گا۔ ون وے  رول کی خلاف ورزی کرنے پر 6 ماہ قید اور ،50 ہزار روپے تک جرمانہ ہوسکے گا۔

فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر  گاڑی چلانے پر 6 ماہ قید ،50 ہزار جرمانہ ہوگا۔ ڈرائیور اور پیسنجر کے لئے سیٹ بیلٹ باندھنا لازمی ہے لیکن اس بنیادی رول کی ولگ پابندی نہیں کرتے، اب اس رول کی وائلیشن بہت مہنگی پڑے گی اور بھاری جرمانہ دینا پڑے گا۔ 

تیز رفتاری پر موٹر سائیکل سوار کو 2 ہزارروپے جرمانہ ہو گا۔ تیز رفتاری پر تھری وہیلر کو 3 ہزار روپے، کار وغیرہ  کو 5 ہزار  روپے جرمانہ ہوسکےگا۔ لگژری گاڑی اور کمرشل ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر تیز رفتاری کا جرمانہ 20 ہزار روپے ہوگا۔ اوور لوڈنگ کرنے پر تھری وہیلر گاڑی کو 3 ہزار روپے، عام گاڑی کو 5 ہزار روپےجرمانہ ہوگا،اوور لوڈنگ کرنے پر لگژری گاڑیوں کو 10 ہزار جرمانہ ہوسکے۔

سگنل توڑ کے نکل جانے پر موٹر سائیکل  سوار کو 2 ہزار روپے، عام گاڑی کے مالک کو  5 ہزار روپے، کمرشل ٹرانسپورٹ کے لئے استعمال ہو رہی گاڑی کو  15 ہزار روپے جرمانہ ہو گا۔

خراب ہیڈ لائٹ  کے ساتھ گاڑی چلانے پر بھی نئے قانون میں بھاری جرمانے مقرر کئے گئے ہیں۔

ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے پر 2 ہزار جرمانہ ہو گا۔

پنجاب اسمبلی میں پیش کئے جانے کے بعد یہ مسودہ قانون سٹینڈنگ کمیٹی کے سپردکر دیا گیا ہے۔ سٹینڈنگ کمیٹی کے غور و فکر کے بعد یہ مسودہ قانون حتمی منظوری یا نامنظوری کے لئے دوبارہ اسمبلی کے اجلاس میں لایا جائے گا۔ 

پنجاب کی حکومت سڑکوں پر ٹریفک قوانین کا ہر صورت میں احترام کروانے کے لئے کئی سال سے سخت جدوجہد کر رہی ہے۔ نگراں وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے ڈرائیونگ لائسنس کا کلچر  تشکیل دینے کے لئے بے پناہ سہولتین فراہم کیں، لائسنس کے نظام میں دور رس اصلاحات کروائیں اور  بچوں کے سڑکوں پر کاریں دوڑانے کو روکنے کے لےئ سخت اقدامات کی ابتدا کی۔ ہیلمٹ اور دوسرے حفاظتی گیجیٹ استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کے لئے مسلسل جدوجہد کی، بھاری جرمانے انہی کے دور میں شروع کئے گئے۔

مریم نواز کی حکومت نے  مارچ 2024 میں آغاز کیا تو ٹریفک رولز کی پابندی کروانے کی کوشش کو مزید آگے برھایا، پونے دو سال کی مسلسل موبلائزیشن کے نتایج کچھ کچھ برآمد ہوئے ہیں لیکن رولز کو توڑنے کا کلچر ختم نہین ہو سکا کیونکہ نئے رولز توڑنے والے لاکھوں بچے سڑکوں پر آ گئے ہیں جنہوں نے رولز کی پابندی کرنے کی تربیت کسی سے حاصل نہیں کی۔ ان مین سے بہت سے ایسے ہیں جو رولز کی وائلیشن پر روکےن والے کو گالی بکنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ 

اب پنجاب کی وزیر اعلیٰ سڑکوں کو عام شہریوں کے لئے محفوظ بنانے کے لئے آخری حد تک جانے کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے زیادہ سخت سزاؤں کا قانون بنانے پر کام  کو حتمی مرحلہ میں لے آئی ہیں توعام شہری اس پر مطمئین ار خوش ہیں البتہ وائلیشن کے عادی ٹرانسپورٹرز کے گروہ "بھاری جرمانے" رکوانے کے لئے ہرتال کرنے تک آ گئے ہیں۔ یہ ٹرانسپورٹر معمولی جرمانوں کو کبھی اہمیت نہیں دیتے اور  پکڑے جائیں تو رشوت کی پیشکش بھی سب سے زیادہ یہی کرتے ہیں۔