سٹی42: غزہ کے تمام علاقوں تک فوجی آپریشن کو پھیلانے کے منصوبہ کی دنیا کے بہت سے ملکوں اور خود اسرائیل کی فوج کی مخالفت کے باوجود نیتن یاہو وسطی غزہ پر فوجی آپریشن کرنے پر بضد ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یا ہو کا اس حوالے سے ایک اور بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم غزہ پر قبضہ کرنے نہیں جا رہے بلکہ غزہ کو حماس سے آزاد کرانے جا رہے ہیں۔
نیتن یاہو کا یہ منصوبہ غزہ کے ان علاقوں پر فوج کے جسمانی آپریشن پر توجہ مرکوز کرتا ہے جہاں اسرائیلی فوج اب تک نہیں گئی۔ یہ غزہ سٹی کے وسطی علاقہ اور اس سے ملحق کچھ علاقے ہیں۔ ان علاقوں مین حماس کے سٹرانگ ہولڈ ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل سے 7 اکتوبر 2023 کو اغوا کئے گئے باقی ماندہ یرغمالیوں کو حماس نے ان علاقوں میں اپنی سرنگوں میں رکھا ہوا ہے۔
نیتن یاہو نے آج اپنے پلان کے کچھ خدوخال بیان کئے اور بتایا کہ وہ "غزہ کو غیر مسلح" کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ "غیر مسلح غزہ" کا انتظام چلانے میں وہ فلسطینی اتھارٹی کو بھی شریک نہیں کرنا چاہتے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ پرامن شہری انتظامیہ قائم کی جائے گی، غزہ میں شہری انتظامیہ میں فلسطینی اتھارٹی، حماس اور کوئی دہشت گرد تنظیم شامل نہیں ہو گی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ہمارے یرغمالیوں کو آزاد کرانے میں مدد کرے گا۔
آج ہی یہ بھی ہوا کہ نیتن یاہو کی حکومت کے وزیر تجارت سموٹرچ نے کہہ ڈالا کہ انہیں یقین نہیں کہ نیتن یاہو غزہ میں جنگ جیت سکے گا۔
کل اسرائیلی کابینہ نے وزیراعظم نیتن یاہو کی غزہ پر قبضے کی تجویز کی منظوری دی تھی جس کی آسٹریلیا، جرمنی، اٹلی، نیوزی لینڈ اور برطانیہ نے مخالفت کی تھی۔ پاکستان بھی اس منصوبہ کی مذمت کر چکا ہے۔
آسٹریلیا، جرمنی، اٹلی، نیوزی لینڈ اور برطانیہ ؛ ان پانچوں ممالک کے وزرائےخارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں مزید بڑے فوجی آپریشن کے اسرائیلی فیصلےکو مسترد کرتے ہیں، اور فلسطین کے دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے عزم کے لیے متحد ہیں۔