ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

غیر قانونی افغانیوں کی واپسی، ڈیڈ لائن میں کسی قسم کی کوئی توسیع نہیں ہوئی؛ طلال چوہدری

غیر قانونی افغانیوں کی واپسی، ڈیڈ لائن میں کسی قسم کی کوئی توسیع نہیں ہوئی؛ طلال چوہدری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ آج کے دن تک 8 لاکھ 57 ہزار سے زائد کو ان کے وطن واپس بھجوایا جا چکا ہے، ڈیڈ لائن میں کسی قسم کی کوئی توسیع نہیں ہوئی۔ 

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے غیر ملکی اور غیر قانونی افغانیوں کی وطن واپسی کے معاملے پر بریفنگ میں کہا کہ 30 اکتوبر 2023 سے غیر قانونی غیر ملکیوں کو وطن واپس بھجوانے کا عمل شروع کیا گیا، دوسرے مرحلے 13 فروری 2025 کو افغان سیٹزن کارڈ ہولڈرز اور پی او آر والوں کو تیسرے مرحلے میں واپس بھجوایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس پر 4 اہم میٹنگز لیں اور ہدایات جاری کیں۔ 

طلال چودھری نے کہا کہ کسی قسم کی کوئی ڈیڈ لائن میں توسیع نہیں ہوئی، آج کے دن تک 8 لاکھ 57 ہزار سے زائد کو ان کے وطن واپس بھجوایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پڑوسی بھائی بہن ہیں لیکن اس وقت پاکستان میں دہشتگردی کا تعلق افغان شہریوں سے ہے جس کیلئے یہ فیصلہ لیا گیا۔ منشیات کا تعلق بھی انہی افراد سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ون ڈاکومنٹ پالیسی کو فروغ دیا جا رہا ہے، جن کو واپس افغانستان بھجوایا جا رہا ہے وہ ویزا لے کر پاکستان آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی افغانی یہاں پراپرٹی  رکھ ہی نہیں سکتے ، جو  گھریلو ان کی چیزیں یہ ساتھ لے کر جانا چاہتے ہیں وہ ان کو اجازت ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ 13 فروری کو وفاقی حکومت نے فیصلہ لیا اور اس کے بعد ٹرانزٹ پوئنٹس بنائے گئے، افغان سیٹرزن کارڈ ہولڈرز کو ان ٹرانزٹ پوائنٹس پر رکھا جاتا ہے،  انہیں کھانا میڈیکل اور ٹرانسپورٹ جیسی سہولیات دے رہے ہیں، مہمانوں کی طرح انہیں رخصت کیا جا رہا ہے۔ 

 طلال چودھری نے کہا کہ یکم اپریل کے بعد 11 ہزار 230 کارڈ ہولڈرز کو واپس بھجوایا جا چکا ہے، ساڑھے 8 لاکھ کے قریب غیر قانونی افراد کو واپس بھجوایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے تمام  بارڈرز کو ریگولیٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2600 کلومیٹر کے اس بارڈر سے دہشتگردی ہو رہی ہے، افغان حکموت کے ساتھ اس معاملے میں ہماری دفتر خارجہ رابطے میں ہے، افغانستان سے یہ کہا گیا ہے کہ ان افراد کو وہاں سہولیات اور ان کے حقوق دیے جائیں۔ 

افغان شہریوں کے اے سی سی کارڈ کی مدت 31 مارچ کو ختم ہو چکی ہے، پی او آر کارڈ والوں کو 30 جون تک مہلت ہے، ڈیڈ لائن میں کوئی توسیع نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افغانی جنہیں دوسرے مملاک جانا ہے ان کیلئے مغربی ممالک کو کہا ہے کہ 30 اپریل تک انہیں یہاں سے لے کر جائیں، ایسے افغان جن کو دوسرے ممالک جانا ہے ان کا کیس ٹو کیس معاملہ دیکھ جا رہا ہے ۔ 

انہوں نے کہا کہ ذمہ دار اور خودمختار ریاست کے طور پر ہمارے ملک سے کوئی غیر قانونی طریقے سے باہر نہیں جا ئے گا، اور جو غیر قانونی طریقے سے باہر گئے ہیں انہیں ہم واپس لینے کیلئے تیار ہیں۔ اس وقت 280 ہیومن سمگلرز گرفتار ہوئے ہیں، شہریت دینے کا ہر ملک کا اپنا قانون ہے اگر افغان بہن بھائی ادھر آتے ہیں تو بسمہ اللہ لیکن قانونی طریقے سے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں اور وزارت داخلہ کی ہیلپ لائن قائم ہیں کسی قسم کی شکایات کا فوری نوٹس لیا جاتا ہے اور کارروائی ہوتی ہے۔