ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے پنجاب کنٹرول آف نارکوٹکس ایکٹ 2025 کے قانونی نقائص اور وفاقی و صوبائی قوانین میں تضاد پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان سے سخت سوالات کیے اور وفاقی و صوبائی قوانین میں تضاد پر اظہار ناراضگی کیا ۔
چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کی سربراہی میں جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس عبہر گل پر مشتمل تین رکنی بنچ نے منشیات کے ملزمان کی درخواست ضمانتوں کے دائرہ سماعت کے متعلق کیس کی سماعت کی ،چیف سیکرٹری جنرل پنجاب زاہد اختر زمان ، ایڈوکیٹ جنرل ، پراسیکیوٹرجنرل ،سیکرٹری قانون سمیت دیگر افسران پیش ہوئے ،سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ "کیا صوبائی قانون وفاقی قانون کو ختم کر سکتا ہے؟ ایک وقت میں دو قوانین کس طرح لاگو ہوں گے؟" چیف جسٹس نے نشاندہی کی کہ وفاقی قانون کے مطابق ضمانت کی درخواستیں ڈویژن بنچ کو سننی ہیں، جبکہ پنجاب کے قانون میں یہ اختیار سنگل بنچ کو دیا گیا ہے، جو ایک تشویشناک تضاد ہے۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مزید ریمارکس دئیے کہ پنجاب حکومت کے قانون کے تحت ایف آئی آر درج ہوگی یا وفاقی قانون کے تحت، یہ انتہائی سنجیدہ اور بنیادی نوعیت کا معاملہ ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا جرائم رک گئے ہیں یا مجرموں کو کہا جائے کہ قانون موجود نہیں، انتظار کریں؟جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ منشیات نے لوگوں کے گھر، جائیدادیں اور عزتیں تباہ کر دیں، جبکہ ایکٹ کی شق 44 اور 39 نے پورے قانون کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قومی المیہ ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات پر قانون سازی میں غفلت برتی گئی۔چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے عدالت کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ قانون میں کچھ خامیاں ہیں جنہیں وقت دے کر دور کیا جا سکتا ہے، تاہم عدالت ان وضاحتوں سے مطمئن نہ ہوئی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اگر قانون میں کمی رہ گئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ قانون بنانے والوں میں کمی ہے، قانون سے نہیں کھیلا جا سکتا۔عدالت نے چیف سیکرٹری کی تین ہفتے کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جرائم تو روزانہ ہو رہے ہیں، زیادہ وقت نہیں دیا جا سکتا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مزید کہا کہ اگر اے این ایف کے حوالے سے کوئی قانون سازی کرنی تھی تو وقت پر کی جاتی، اس طرح کی کوتاہیاں قابل قبول نہیں۔ ،فل بینچ نے عبدالرحمان شاہ سمیت دیگر ملزمان کی درخواست ضمانتوں پر معاملہ دو رکنی بینچ کو بھجواتے ہوئے کیس کی سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کردی ۔