ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے منشیات کے مجرم محمد طارق کی جانب سے دائر سزا کے خلاف اپیل خارج کر دی اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں پیش کردہ شواہد، گواہوں کے بیانات اور فرانزک رپورٹ کی روشنی میں سزا بالکل درست دی گئی ہے۔
جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سنے۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل عبدالصمد نے عدالت میں پیش ہو کر مجرم کی اپیل کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ مجرم محمد طارق سے 18 کلو چرس برآمد ہوئی تھی، جو پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ سے بھی ثابت ہو چکی ہے۔
،انہوں نے مزید کہا کہ مقدمے میں گواہان کے بیانات میں کسی قسم کا تضاد نہیں، اور 2019 میں تھانہ شاہ پور سٹی، سرگودھا میں درج مقدمے میں تفتیشی ٹیم نے ٹھوس شواہد عدالت میں پیش کیے۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے شواہد، گواہوں کے بیانات اور فرانزک ثبوتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مجرم کو عمر قید کی سزا سنائی، جو میرٹ پر مبنی فیصلہ تھا۔دوسری جانب، وکیلِ صفائی نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مقدمے کا مدعی خود ہی تفتیشی افسر ہے، جو قانون کے مطابق درست نہیں۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App