ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پی ڈی ایم اے کا اہم اجلاس،مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کا  جائزہ

پی ڈی ایم اے کا اہم اجلاس،مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کا  جائزہ
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

علی رامے:ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر جاوید کی زیر صدارت پی ڈی ایم اے ہیڈ آفس میں اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مون سون بارشوں، اربن فلڈنگ اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے انتظامات اور تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جبکہ پی ڈی ایم اے حکام نے متعلقہ محکموں کو مون سون پریپیئرڈنس پلان 2026 پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کے دوران ہنگامی منصوبہ بندی، دستیاب وسائل، ریسپانس میکنزم اور ممکنہ چیلنجز کا جائزہ لیا گیا۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ دستیاب مشینری، آلات اور دیگر وسائل سے متعلق تفصیلی رپورٹس جمع کروائیں۔

عمر جاوید نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع انتظامات کو یقینی بنایا جائے اور کمزور پشتوں، حفاظتی بندوں اور ممکنہ شگاف والے مقامات کے معائنے کی پیشرفت رپورٹ فوری طور پر پیش کی جائے۔

اجلاس میں بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ سے بچاؤ کے لیے پیشگی اقدامات، نالوں کی ڈی سلٹنگ اور نکاسی آب کے منصوبوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ مون سون سیزن سے قبل تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے جائیں۔

اجلاس میں متاثرہ آبادی اور مویشیوں کے انخلا کے لیے متبادل روٹس، ٹرانسپورٹ پلان اور ریسکیو اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اس کے علاوہ ضلعی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کو 24 گھنٹے فعال رکھنے، ریلیف کیمپس میں خوراک، صاف پانی، صفائی، بجلی اور سکیورٹی کی سہولیات کی فراہمی کا بھی جائزہ لیا گیا۔

حکام نے امدادی سامان، مشینری، افرادی قوت اور ایندھن کے ذخائر کی دستیابی پر بریفنگ دی جبکہ عوامی آگاہی مہم اور سیلابی خطرات سے متعلق احتیاطی تدابیر پر بھی غور کیا گیا۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنایا جائے تاکہ مون سون کے دوران عوام کے جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔