افسوسناک سانحہ مری پیش آنے کی حقیقت سامنے آ گئی

Murree snowstorm death toll goes up to 23 amid rescue
Murree incident report

(علی رامے)مری میں شدید برفباری اور  بدترین ٹریفک جام کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 23 ہو گئی، سانحہ مری کے نا اہل ذمہ دارو‍ں کی حقیقت سامنے آ گئی، حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے مرتب کر دہ ایس او پیز کو مکمل نظر انداز کیا گیا.

تفصیلات کےمطابق ملکی تاریخ میں ایک اور  افسوس ناک سانحہ رونما ہوا، مری کی یخ بستہ سردی نے ابھی تک 23 افراد کی جان لے لی،سانحہ مری کے نا اہل ذمہ دارو‍ں کی حقیقت سامنے آ گئی، حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے مرتب کر دہ ایس او پیز کو مکمل نظر انداز کیا گیا.بڑی گاڑیوں کا داخلہ مری ٹول پلازہ سے قبل ہی بند کرنے کی سفارش کی گئی.

مسافر بسیں مری ٹول پلازہ سے سترہ میل دور پارک کرنے کی سفارش کی گئی تھی.مال روڈ، جھیکا گلی، کلہڈانہ چوک، سنی بنک بازار کو ممنوع علاقہ قرار دیا گیا تھا۔ڈسٹرک پولیس اور ٹریفک پولیس ممنوع علاقوں سے پارکنگ ختم کرنے کی ذمہ دار تھی.

میٹنگ منٹس کےمتن میں بیان کیا گیا کہ محکمہ ہائی وے، میونسپل کارپوریشن سمیت اداروں کو مختلف ٹاسک سونپے گئے تھے. سنی بنک مری،جھیکا گلی مری صرف دو پوائنٹس پر ریسکیو کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا.حادثے کا شکار ہونے والے علاقے کلہڈانہ میں ریسکیو ایمرجنسی پلان کا حصہ ہی نہیں بنایا گیا.

سیاحوں کی حفاطت کے لئے کلہڈانہ میں پیشگی طور پر کوئی ریسکیو اہلکار تعینات نہیں کیا گیا تھا.مری میں آنے والی ہر گاڑی کا فٹنس سرٹیفکیٹ چیک کرنے کی ذمہ داری مقامی پولیس و ٹرانسپورٹ کو سونپی گئی تھی.سیاحوں کی مدد کے لئے سول ڈیفنس کے اہلکاروں کے ساتھ رضا کاروں کو بھی تعینات کرنے کی شفارش کی گئی تھی.

برف کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے 3 مرکزی اور 12 چھوٹے کیمپ بنانے کی شفارش کی گئی تھی.برف باری کے دوران نمک پاشی کے لئے پانچ کیمپ قائم کرنے کی سفارش کی گئی تھی.مری و گرد و نواح میں برف باری سے قبل کئے جانے والے انتظامات 30 نکات پر مشتمل تھے۔