سٹی42: بھارت کی سپریم کورٹ نے "دھوکے سے مذہب تبدیل کروانے" پر طویل قید کی سزا کے قانون کو چیلمج کئے جانے پر ریاستی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے ’تبدیلیٔ مذہب مخالف قانون‘ کے خلاف مسیھی بشپوں کی تنظیم کی پیٹیشن پر راجستھان حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔
’کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا‘ نے سپریم کورٹ سے تبدیلیٔ مذہب ایکٹ کو غیر قانونی قرار دینے کی گزارش کی ہے۔ راجستھان ریاست میں نافذ اس قانون میں اجتماعی تبدیلیٔ مذہب کرانے پر 20 سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا کا التزام کیا گیا ہے.
سپریم کورٹ نے راجستھان کے ’تبدیلیٔ مذہب مخالف ایکٹ‘ کے جواز کو چیلنچ کرنے والی عرضی پر 8 دسمبر کو سماعت کی۔ اس معاملے میں عدالت نے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کر جواب طلب کیا ہے۔ جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس آگسٹن مسیح کی بنچ نے ’کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا‘ کے ذریعہ داخل کی گئی عرضی کو دیگر زیر التوا عرضیوں کے ساتھ منسلک کر دیا۔ ان میں ’راجستھان غیر قانونی تبدیلی مذہب کی ممانعت ایکٹ 2025‘ کے مختلف التزامات کے جواز کو چیلنج کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ اس سے قبل اسی طرح کے مسائل کو اٹھانے والی کچھ دیگر عرضیوں پر سماعت کے لیے راضی ہوئی تھی، اور ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔ بنچ کے سامنے پیر کو معاملہ سماعت کے لیے آنے پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت عظمیٰ کو مطلع کیا کہ اسی طرح کے کئی معاملے ان کے سامنے زیر غور ہیں۔درخواست دینے والے مسیھی پاسبانوں نے
سپریم کورٹ سے 2025 کے تبدیلیٔ مذہب ایکٹ کو غیر قانونی قرار دینے کی گزارش کی ہے۔ راجستھان کے اس قانون میں دھوکے سے اجتماعی تبدیلیٔ مذہب کرانے پر 20 سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا کا التزام کیا گیا ہے۔ جبکہ دھوکہ دہی سے کسی شخص کا مذہب تبدیل کرانے پر 7 سے 14 سال تک کی جیل کی سزا کا التزام ہے۔ ایکٹ میں التزام کیا گیا ہے کہ دھوکے سے نابالغوں، خواتین، شیڈولڈ کاسٹ، شیڈولڈ قبائل کے افراد اور معذوروں کا مذہب تبدیل کرانے پر 10 سے 20 سال کے جیل کی سزا اور کم از کم 10 لاکھ روپے کا جرمانہ ہوگا۔
سپریم کورٹ کے ایک دیگر بنچ نے ستمبر میں کئی ریاستوں سے کہا تھا کہ وہ اس بنچمیں زیر سماعتالگ الگ درخواستوں پر اپنا موقف واضح کریں، جن میں تبدیلیٔ مذہب کے مخالف قوانین پر روک لگانے کی درخواست کی گئی تھی۔ عدالت نے اس وقت واضح کیا تھا کہ وہ جواب داخل ہونے کے بعد ایسے قوانین کے نفاذ پر روک لگانے کی درخواست پر غور کرے گی۔
اس وقت بنچ اتر پردیش، مدھیہ پردیش، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، چھتیس گڑھ، گجرات، ہریانہ، جھارکھنڈ اور کرناٹک سمیت کئی ریاستوں کے ذریعہ نافذ کیے گئے تبدیلیٔ مذہب مخالف قوانین کی آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر غور کر رہی تھی۔