سٹی 42: سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن اور ان کے بیٹے راول میمن کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ جھوٹے اور من گھڑت الزامات کی تشہیر کے معاملے پر این سی سی آئی اے سے رجوع کرلیا گیا۔
شرجیل انعام میمن کی جانب سے ان کے وکیل ایڈووکیٹ سیدہ ملائکہ نقوی نے 9 اگست کو این سی سی آئی اے کراچی زون کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو تحریری شکایت جمع کرائی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس، پیجز اور گروپس کے ذریعے شرجیل میمن اور ان کے بیٹے کے خلاف مبینہ طور پر منظم کردار کشی مہم چلائی جارہی ہے، جس سے ان کی ساکھ اور عزت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
شکایت میں چار فیس بک اکاؤنٹس اور پیجز کا حوالہ دیا گیا ہے، درخواست کے ساتھ متعلقہ اکاؤنٹس کے اسکرین شاٹس بھی منسلک کیے گئے ہیں۔
درخواست کے مطابق سوشل میڈیا پر میر علی رضا کیس سے متعلق مختلف دعوے گردش کررہے ہیں، جن میں گلستانِ جوہر کراچی کے ایک گیسٹ ہاؤس کی ملکیت شرجیل میمن سے منسوب کرنے اور راول میمن کے واقعے کے بعد لندن روانہ ہونے کے دعوے بھی شامل ہیں۔
شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا مواد کے ذریعے میڈیکل بورڈ کی تبدیلی، واقعے میں ملوث افراد کو مبینہ تحفظ فراہم کرنے اور پولیس تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
شرجیل میمن نے شکایت میں ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
درخواست کے مطابق مختلف سوشل میڈیا پیجز پر ایک جیسے الفاظ اور یکساں دعوے تقریباً ایک ہی وقت میں سامنے آئے، جس سے مبینہ طور پر ایک منظم اور مربوط آن لائن مہم کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔
شکایت میں بعض سیاسی جماعتوں سے وابستہ عناصر کے ممکنہ کردار کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ کا ذکر بھی درخواست میں کیا گیا ہے۔
درخواست میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے والے افراد اپنی شناخت چھپانے کے لیے جعلی نام، بوٹ نیٹ ورکس یا پراکسی ہینڈلرز استعمال کررہے ہو سکتے ہیں۔
شرجیل میمن کی جانب سے این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا فرانزک اور تکنیکی آڈٹ کیا جائے اور آئی پی لاگز، ڈیوائس و سم رجسٹریشن سمیت دیگر ضروری معلومات کے ذریعے اکاؤنٹس چلانے والے افراد کی شناخت کی جائے۔
شکایت میں مبینہ آن لائن مہم کے درمیان رابطوں، فنڈنگ اور مواد کے اصل ماخذ کا سراغ لگانے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
درخواست میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016، ترمیم شدہ 2025 کی مختلف دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے باقاعدہ انکوائری شروع کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔
شرجیل انعام میمن کی جانب سے این سی سی آئی اے کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے اور ادارے کی جانب سے طلب کی جانے والی معلومات اور شواہد فراہم کریں گے۔