سٹی42: یورپی یونین نے امریکی درآمدی اشیا پر محصولات عائد کرنے کے حق میں ووٹ دے دیا۔ اب جیسے امریکہ نے یورپی یونین کے ممالک کی امریکہ میں امپورٹس پر ٹیرف لگائے ہیں ویسے ہی یورپی یونین کے ملک اپنے ہاں آنے والی امریکی پروڈکٹس پر 15 اپریل سے ٹیرف لگائیں گے۔
یورپی یونین کے رکن ممالک نے کچھ امریکی درآمدی اشیا پر محصولات عائد کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے، یورپی کمیشن کے ایک بیان میں اس ڈیویلپمنٹ کی تصدیق کی گئی ہے۔
یورپی یونین کے امریکہ سے آنے والی امپورٹس پر نئے ٹیرف کا اطلاق 15 اپریل سے ہوگا۔
یورپی یونین کےبیان میں کہا گیا ہے کہ "یورپی یونین امریکی محصولات کو بلاجواز اور نقصان دہ سمجھتی ہے، جس سے دونوں فریقوں کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کو بھی معاشی نقصان پہنچ رہا ہے۔"
"یورپی یونین نے امریکہ کے ساتھ گفت و شنید کے نتائج تلاش کرنے کی اپنی واضح ترجیح بیان کی ہے، جو متوازن اور باہمی طور پر فائدہ مند ہوں گے۔"
آئندہ ہفتے یورپی یونین کا جواب آغاز ہو گا
یورپی یونین اگلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے محصولات کے خلاف اپنے پہلے جوابی اقدامات کا آغاز کرے گی، بلاک کے اراکین نے بدھ کے روز اس امر پر اتفاق کیا کہ یورپی یونین امریکہ کے ٹیرف کا جواب ٹیرف سے دی گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چھیڑی ہوئی ٹیرف جنگ اب حقیقی عالمی تجارتی تنازعے میں بدل چکی ہے۔ کینیڈا اور چین پہلے ہی ٹرمپ کے ٹیرف کا جواب ٹیرف سے دے رہے ہیں، اب یورپی یونین یعنی یوپر کے تمام ملک بھی ٹرمپ ٹیرف کا جواب ٹیرف سے ہی دینے کا فیصلہ کر بیٹھے ہیں جس کا اطلاق 15 اپریل سے ہو گا۔
یورپی یونین کے ارکان کی امریکی پروڈکٹس پر ٹیرف امپوز کرنے کی یہ منظوری اس دن سامنے آئی جب آج 9 اپریل کو ٹرمپ کے یورپی یونین اور درجنوں ممالک پر "باہمی" ٹیرف نافذ ہوئے۔ جن میں چین پر بڑے پیمانے پر تھوپی گئی 104 فیصد ڈیوٹیز شامل ہیں۔
یورپی یونین کے اس جوابی اقدام سے ٹیرف ک جنگ کا بڑھنا ناگزیر ہے اور مالیاتی منڈیوں پر اس کا گہرا اثر ہونا ناگزیر ہے۔