بچے کی حوالگی سے متعلق مقدمات محض قانونی تنازعات نہیں ہوتے، بلکہ ان میں بچے کے بہترین مفاد، والدین کے حقوق اور آئینی آزادیوں کے اہم سوالات بھی شامل ہوتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے ایسے ہی ایک مقدمے میں ماں اور کمسن بچے کی نقل و حرکت پر عائد غیر متناسب پابندیوں کے حوالے سے اہم اصول وضع کیے ہیں۔
جسٹس اسد علی باجوہ نے سائلہ مصباح بی بی کی درخواست پر دس صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں ماتحت عدالت کی جانب سے عائد دو شرائط ختم کردی گئیں۔ماتحت عدالت نے کمسن بچے کو ماں کے سپرد کرتے ہوئے سات لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے اور ماں کو بچے سمیت عدالتی حدود سے باہر جانے سے روک دیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ یہ پابندیاں غیر متناسب ہیں اور آئینی آزادیوں کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
دفعہ 491 کا محدود دائرہ اختیار
فیصلے میں عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 491 کے دائرہ اختیار کو بھی واضح کیا۔ عدالت کے مطابق اس دفعہ کے تحت ہائیکورٹ کو حاصل اختیار ہنگامی اور عارضی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔
ہائیکورٹ دفعہ 491 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ماتحت عدالت یا گارڈین کورٹ کے بنیادی دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ بچے کی مستقل یا عبوری تحویل اور سرپرستی کا فیصلہ متعلقہ گارڈین کورٹ ہی قانون کے مطابق کرے گی۔
یہ وضاحت اس لیے بھی اہم ہے کہ دفعہ 491 کے تحت بچے کو عارضی طور پر کسی فریق کے سپرد کرنا اس فریق کو مستقل حقِ حضانت فراہم نہیں کرتا۔
نقل و حرکت پر غیر ضروری پابندی
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کسی کمسن بچے کو ماں کے سپرد کرنے کے بعد ماں اور بچے کی نقل و حرکت پر ایسی پابندیاں عائد نہیں کی جاسکتیں جو ضرورت سے زیادہ ہوں اور آئینی حقوق کو متاثر کریں۔
عدالت کے مطابق عدالتی اختیار استعمال کرتے ہوئے کسی قانونی مقصد کے حصول کے لیے عائد کی جانے والی پابندی بھی متناسب ہونی چاہیے۔ صرف بچے کی عارضی تحویل کو یقینی بنانے کے لیے ماں اور بچے کی نقل و حرکت غیر ضروری طور پر محدود نہیں کی جاسکتی۔
سات لاکھ روپے کے مچلکوں کا خاتمہ
عدالت نے سات لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کی شرط بھی ختم کردی۔ اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ عارضی عدالتی ریلیف کو ایسی غیر ضروری مالی شرائط سے مشروط نہیں کیا جانا چاہیے جو ریلیف حاصل کرنے والے کے لیے غیر متناسب بوجھ بن جائیں۔
تاہم عدالت نے بچے کی مستقل تحویل کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ واضح کیا کہ یہ معاملہ گارڈین کورٹ اپنے دائرہ اختیار میں قانون کے مطابق طے کرے گی۔
فیصلے کی اہمیت
اس فیصلے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ فوری اور عارضی عدالتی ریلیف کے نام پر کسی شہری کی آئینی آزادی غیر ضروری طور پر محدود نہیں کی جاسکتی۔
بچے کی حفاظت اور بہترین مفاد یقیناً بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، لیکن اس مقصد کے لیے اختیار کیے جانے والے اقدامات بھی قانون اور آئین کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے مصباح بی بی کی درخواست منظور کرتے ہوئے سات لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں اور بچے سمیت عدالتی حدود سے باہر جانے کی پابندی ختم کردی۔یہ فیصلہ مستقبل میں دفعہ 491 کے تحت بچوں کی عارضی حوالگی کے مقدمات میں ایک اہم قانونی رہنمائی فراہم کرسکتا ہے، جبکہ مستقل تحویل اور سرپرستی کے معاملات کے لیے گارڈین کورٹ کے دائرہ اختیار کو بھی واضح کرتا ہے۔