ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بچے اور والدہ کی نقل و حرکت پر غیر متناسب پابندیاں آئینی آزادیوں کے منافی ہیں: لاہور ہائیکورٹ

بچے اور والدہ کی نقل و حرکت پر غیر متناسب پابندیاں آئینی آزادیوں کے منافی ہیں: لاہور ہائیکورٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے کمسن بچے کی ماں کو حوالگی کے بعد عائد کی گئی غیر ضروری پابندیاں ختم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بچے اور والدہ کی نقل و حرکت پر غیر متناسب پابندیاں آئینی آزادیوں کے منافی ہیں۔

جسٹس اسد علی باجوہ نے سائلہ مصباح بی بی کی درخواست پر دس صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق ماتحت عدالت نے کمسن بچے کو ماں کے سپرد کرتے ہوئے اس پر سات لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے اور ماں کو بچے سمیت عدالتی حدود سے باہر جانے سے روکنے کی شرائط عائد کی تھیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے ماتحت عدالت کی جانب سے عائد دونوں شرائط ختم کردیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ بچے کی عارضی تحویل کا معاملہ گارڈین کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 491 کے تحت ہائیکورٹ ماتحت عدالت کے اختیارات سے تجاوز نہیں کرسکتی۔ دفعہ 491 کے تحت حاصل اختیار ہنگامی اور عارضی نوعیت کا ہے، جبکہ بچے کی مستقل یا عبوری تحویل اور سرپرستی کا فیصلہ گارڈین کورٹ ہی کرے گی۔
فیصلے کے مطابق کسی کمسن بچے کو ماں کے سپرد کرنے کے بعد اس کی نقل و حرکت پر ایسی غیر ضروری پابندیاں عائد نہیں کی جاسکتیں جو آئینی آزادیوں سے متصادم ہوں۔عدالت نے قرار دیا کہ بچے اور والدہ کی نقل و حرکت پر غیر متناسب پابندی عائد کرنا آئینی حقوق اور شخصی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ دفعہ 491 کے تحت کارروائی کا مقصد فوری اور عارضی ریلیف فراہم کرنا ہے، اسے گارڈین کورٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ بچے کی تحویل اور سرپرستی سے متعلق حتمی فیصلہ متعلقہ گارڈین کورٹ قانون کے مطابق کرے گی۔لاہور ہائیکورٹ نے مصباح بی بی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالت کی جانب سے عائد سات لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں اور عدالتی حدود سے باہر جانے پر پابندی کی شرائط ختم کردیں۔