ویب ڈیسک:خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں توانائی کی قیمتیں اچانک اوپر جانے لگیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ عسکری جھڑپ نے تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایشیائی مارکیٹوں میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جھڑپوں کے بعد عالمی سطح پر برینٹ خام تیل کی قیمت 2.3 فیصد اضافے کے ساتھ 102.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 2.1 فیصد بڑھ کر 96.80 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
امریکی فوج کے مطابق اس نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کو ناکام بنایا اور جب اس کے بحری جہاز خلیج فارس سے گزرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے نکل رہے تھے تو اس دوران جوابی کارروائی بھی کی گئی۔
دوسری جانب ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پہل امریکہ کی جانب سے کی گئی۔
اس بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اپریل کو جاری امن عمل کو مزید وقت دینے کے لیے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال اس عمل کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔