طلحہ اشرف: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا، جس سے عام شہریوں کا سفر مشکل ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور سے فیصل آباد، کراچی، مری، بہاولنگر اور دیگر شہروں کو جانے والے مسافروں نے شدید شکایات کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملتان، قصور اور دیگر شہروں میں کرایوں میں 50، 100 سے 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ "ٹرانسپورٹ کرائے بڑھنے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا اور ابھی ہی کرائے تقریباً 25 فیصد بڑھ چکے ہیں۔ عید کے موقع پر مزید اضافہ متوقع ہے۔
مسافروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کرائی جائے تاکہ عوام کو اپنے پیاروں سے ملنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
خٰیال رہے کہ عوام کو ایک طرف تو پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے ذاتی ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور عمومی مہنگائی کی سزا ملی ،اس پر ٹرانسپورٹروں نے عوام کو مزید سزا دے ڈالی۔ پٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے ٹرانسپورٹروں کے منافعے میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا۔
جنرل بس اسٹینڈ بادامی باغ سے دیگر شہروں کو جانے والی بسوں کے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ۔ کرایوں میں اضافہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے ۔
لاہور سے اسلام آباد اے سی بس کا کرایہ 1850 سے 2050 روپے ہوگیا ۔
لاہور سے فیصل آباد اے سی بس کا کرایہ 850 سے بڑھ کر 1050 روپے ہوگیا ۔
لاہور سے مانسہرہ کرایہ 2400 سے بڑھ کر 2700 ہوگیا ۔
لاہور سے سوات اے سی بس کا کرایہ 2400 سے بڑھ کر 2600 ہوگیا ۔
لاہور سے ملتان اے سی بس کا کرایہ 1500 سے بڑھ کر 1700 ہوگیا ۔
لاہور سے پشاور اے سی بس کا کرایہ 2000 سے بڑھ کر 2200 ہوگیا۔
لاہور سے کروڑ لیہ اے سی بس کا کرایہ 1800 سے بڑھ کر 2000 ہوگیا۔
لاہور سے ڈیڑہ اسماعیل خان اے سی بس کا کرایہ 2300 سے بڑھ کر 2500 ہوگیا ۔
لاہور سے بنوں اے سی بس کا کرایہ 2200 سے بڑھ کر 2400 ہوگیا ۔
لاہور سے بہاولپور اے سی بس کرایہ 1800 سے بڑھ کر 2000 ہوگیا ۔
لاہور سے سرگودھا اے سی بس کا کرایہ 1050 سے بڑھ کر 1200 روپے ہوگیا ۔
لاہور سے میانوالی اے بس کرایہ 1750 سے بڑھ کر 1900 ہوگیا ۔
لاہور سے کراچی اے سی بس کا کرایہ 5500 سے بڑھ کر 6000 ہوگیا ۔
لاہور سے صادق آباد اے سی بس کا کرایہ 2300 سے بڑھ کر 2500 ہوگیا۔
لاہور سے کوئٹہ اے سی بس کرایہ 3500 سے بڑھ کر 4000 ہوگیا۔