شہر کی مصروف شاہراہ پر دوپہر کی تپتی دھوپ میں اینٹوں سے لدی ایک گاڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔ گاڑی کھینچنے والے گدھے کی سانس پھول رہی ہے، گردن پسینے سے تر ہے اور کندھوں پر رسی کے نشان واضح دکھائی دیتے ہیں۔ چند ہی قدم آگے ایک خچر پہاڑی راستے پر دواؤں اور خوراک سے لدا ہوا ہے، جبکہ کسی قدیم بازار میں ایک گھوڑا سیاحوں کو سواری کرا رہا ہے۔ ان تینوں میں ایک بات مشترک ہے؛ یہ بول نہیں سکتے، اپنے زخم دکھا نہیں سکتے اور اپنی تھکن کی شکایت بھی نہیں کر سکتے۔
یہ محض جانور نہیں، بلکہ لاکھوں غریب خاندانوں کے خاموش ساتھی ہیں۔ ان کی محنت سے گھروں کے چولہے جلتے ہیں، بچوں کی فیس ادا ہوتی ہے اور روزمرہ زندگی کا پہیہ چلتا ہے۔ لیکن جب یہی جانور بیمار پڑ جائیں تو غربت کا شکار ان کے مالکان اکثر ان کا علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یوں انسان اور جانور، دونوں ایک ایسے چکر میں پھنس جاتے ہیں جہاں بے بسی سب سے بڑی حقیقت بن جاتی ہے۔
دنیا میں اندازاً 11 کروڑ سے زائد محنت کش ایکوائن جانور، یعنی گھوڑے، گدھے اور خچر، نقل و حمل، زراعت، تعمیرات، کان کنی اور پہاڑی علاقوں میں سامان کی ترسیل جیسے کام انجام دیتے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی مطالعات کے مطابق ان جانوروں پر تقریباً 60 کروڑ انسانوں کا روزگار براہِ راست یا بالواسطہ منحصر ہے۔ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے بہت سے ممالک میں یہ جانور جدید مشینری کا متبادل نہیں بلکہ اس کا واحد عملی نعم البدل ہیں۔
پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں لاکھوں خاندان اپنی روزی روٹی کے لیے محنت کش ایکوائن جانوروں پر انحصار کرتے ہیں۔ شہروں میں ریڑھیاں، تعمیراتی سامان، سبزیاں، پھل اور گھریلو اشیاء انہی جانوروں کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتی ہیں، جبکہ دیہی اور پہاڑی علاقوں میں یہ آج بھی زندگی کی ناگزیر ضرورت ہیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ان جانوروں کے زیادہ تر مالکان خود بھی معاشی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ روزانہ کی آمدنی سے بمشکل گھر کا خرچ پورا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر گھوڑا زخمی ہو جائے، گدھے کو گلینڈرز، زخم، لنگڑاہٹ یا جلدی بیماری لاحق ہو جائے، یا خچر کے کھروں میں خرابی پیدا ہو جائے تو علاج اکثر مؤخر ہوتا رہتا ہے۔ بیماری بڑھتی ہے، جانور کی قوتِ کار کم ہوتی ہے، آمدنی گھٹتی ہے اور غربت مزید گہری ہو جاتی ہے۔
یہ ایک ایسا شیطانی دائرہ ہے جس میں نقصان صرف جانور کا نہیں بلکہ پورے خاندان کا ہوتا ہے۔
ہمارے شہروں میں ایک اور پہلو بھی توجہ طلب ہے۔ جب کوئی محنت کش جانور کمزور، زخمی یا بظاہر ناقص حالت میں دکھائی دیتا ہے تو بعض اوقات قانون نافذ کرنے والے یا انسدادِ بے رحمیٔ حیوانات کے ذمہ دار ادارے اسے تحویل میں لے لیتے ہیں۔ جانور کو وقتی تحفظ تو مل جاتا ہے، لیکن اس کے مالک کا روزگار فوراً ختم ہو جاتا ہے۔ اگر اس عمل کے ساتھ علاج، مالی معاونت، ویٹرنری سہولت یا متبادل روزگار فراہم نہ کیا جائے تو ایک غریب خاندان مزید مشکلات میں گھر جاتا ہے۔
یقیناً جانوروں پر ظلم کسی صورت قابلِ قبول نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر کمزور جانور کے پیچھے ایک ظالم مالک نہیں ہوتا۔ اکثر وہاں ایک مفلس انسان کھڑا ہوتا ہے جو اپنے بیمار ساتھی کا علاج کرانا چاہتا ہے مگر اس کی جیب اجازت نہیں دیتی۔ ایسے میں سزا سے زیادہ ضرورت معاونت، رہنمائی اور علاج کی ہوتی ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں اب ایک نیا تصور فروغ پا رہا ہے جسے "One Welfare" کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق انسان اور جانور کی فلاح ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر جانور صحت مند ہوگا تو اس کا مالک بھی بہتر روزگار حاصل کرے گا، خاندان کی آمدنی بڑھے گی اور معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ اسی لیے جدید پالیسیوں میں صرف جانوروں کے تحفظ پر نہیں بلکہ ان کے مالکان کی معاشی بہتری پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
پاکستان میں بھی یہی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔ اگر محنت کش جانوروں کے لیے کم خرچ یا مفت ویٹرنری سہولیات، موبائل کلینک، مناسب نعل بندی، متوازن خوراک، حفاظتی ویکسینیشن اور مالکان کی تربیت کو فروغ دیا جائے تو ان جانوروں کی اوسط عمر اور قوتِ کار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کا براہِ راست فائدہ لاکھوں خاندانوں کی آمدنی اور ملکی معیشت کو ہوگا۔
جانوروں کی فلاح کو صرف رحم دلی کا معاملہ سمجھنا کافی نہیں۔ یہ غربت میں کمی، پائیدار ترقی اور معاشی استحکام کی حکمتِ عملی بھی ہے۔ ایک صحت مند گدھا ایک مزدور کے لیے روزانہ کی آمدنی کا ذریعہ ہے، ایک طاقتور خچر پہاڑی بستی تک دوائیں پہنچا سکتا ہے اور ایک توانا گھوڑا کئی افراد کے روزگار سے جڑا ہو سکتا ہے۔
اس سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں متعدد فلاحی ادارے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بروک پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے محنت کش گھوڑوں، گدھوں اور خچروں کی صحت، علاج، مالکان کی تربیت اور ویٹرنری ماہرین کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے سرگرم ہے۔ ادارے نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں لاکھوں ایکوائن جانوروں کے علاج اور ہزاروں کمیونٹیز کی تربیت کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ جانوروں کی فلاح اور انسانی خوشحالی ایک دوسرے سے الگ نہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم ان جانوروں کو صرف بوجھ اٹھانے والی مخلوق کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ انہیں قومی معیشت کے خاموش کارکن تسلیم کریں۔ ان کی حفاظت کے لیے ایسے قوانین، پالیسیوں اور پروگراموں کی ضرورت ہے جو جانور کے ساتھ ساتھ اس کے مالک کو بھی سہارا دیں۔ علاج تک آسان رسائی، آگاہی، مالی معاونت، بہتر ویٹرنری خدمات اور سماجی تعاون ہی اس مسئلے کا پائیدار حل ہیں۔
جب کبھی آپ سڑک پر کسی گدھے، گھوڑے یا خچر کو تھکے ہوئے قدموں سے بوجھ اٹھاتے دیکھیں تو یاد رکھیے کہ وہ صرف ایک گاڑی نہیں کھینچ رہا، بلکہ کسی غریب کے خواب، کسی بچے کی تعلیم، کسی ماں کی دوا اور کسی گھر کی امید بھی اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے۔ ان کی خاموش محنت کو اگر ہم نے عزت، تحفظ اور بہتر زندگی دی تو اس کا فائدہ صرف ان جانوروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کی معیشت، دیہی ترقی اور معاشرتی خوش حالی تک پہنچے گا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App