سٹی42:شیخ رشید احمد نے انسداد دہشتگری عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میں بڑوں سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ غریبوں کو معاف کر دیں غریبوں کے حالات بڑے خراب ہیں۔
تفصیلات کےمطابق سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ جو لوگ جیل میں ملاقات نہیں کروا سکے وہ ملاقات کیا کراویں گے، باقی یہ جوڈیشل کمیشن بنائیں گے نہیں بنائیں گے فیصلہ تو کسی اور نے کرنا ہے،یہ تو ویسے ہی جمعہ جنج کے ساتھ ہے
شیخ رشید نے کہا ہم پاکستان میں ہی نہیں تھے لیکن ہم کیسوں میں ہیں دو دو سال ہو گئے ہیں، 16 ۔16 کیسز ہیں اور کسی طرف نہیں لگ رہے، میں آج اڈیالہ نہیں جا رہا میں نے تو یہیں حاضری لگا دی ہے، نیا سال سب مزید بھاری ہو گا۔
یہ جو سوچے بیٹھے ہیں کہ شاید نئے سال میں کوئی بہت بڑی تبدیلی آجائے گی تو کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، قبر ایک ہے اور مردے دو نہیں بلکہ تین ہیں پہلے میں دو کہتا تھا اب تین کہتا ہوں، پیپلز پارٹی کی کوئی بات نہیں ہے ان کی کوئی سن ہی نہیں رہا۔
آپ مجھے ایک سوال کا جواب دیں جو لوگ جیل میں ملاقات نہیں کرا سکتے، آپ 50 روپے دیں ملاقات ہو جاتی ہے 500 روپیہ دیں تو اندر کرسی پہ ملاقات ہو جاتی ہے۔
جو لوگ جیل میں ملاقات تین تین ملاقاتوں کی ڈیٹیں بدل رہی ہیں آپ کا کوئی خیال ہے کہ وہ مذاکرات کا نتیجہ نکالیں گے؟کیا وہ کوئی جوڈیشل کمیشن بنائیں گے وہ قیدیوں کو رہا کریں گے؟
شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ میں ہوں ہر دفعہ اپیل کرتا ہوں کہ خدا کے لیے غریبوں کو چھوڑ دو بہت بے گناہ لوگ ہیں۔